صحیح بخاری (جلد سوم) — Page 423
صحيح البخاري - جلد۳ م ٢٥ - كتاب الحج هَذَا مَقَامُ الَّذِى أُنْزِلَتْ عَلَيْهِ سُورَةُ الْبَقَرَةِ: بعض شارحین کا خیال ہے کہ سورۃ بقرہ کا ذکر اس لئے کیا ہے کہ اس میں احکام شریعت مذکور ہیں ، جن میں حج کا حکم بھی ہے۔(فتح الباری جزء ۳۰ صفر ۷۳۴ ) سورۃ انفال میں ایک قسم کی رمی کا ذکر ان الفاظ میں وارد ہوا ہے: مَا رَمَيْتَ إِذْ رَمَيْتَ وَلَكِنَّ اللهَ رَمَى (الانفال:۱۸) یعنی تو نے ان پر بوچھاڑ نہیں کی بلکہ اللہ نے بوچھاڑ کی ہے۔اس سے ظاہر ہے کہ رمی کا تاریخی پس منظر شیطان کی شکست ہے جو آسمانی ذریعہ سے ہوئی اور اس شکست کا ذکر متعد دسورتوں میں کیا گیا ہے۔(دیکھئے سورۃ الانبیاء : ۱۸ سورۃ سبا: ۴۹ ،سورۃ الصافات:۹) ان تینوں آیتوں میں قذف کا لفظ وارد ہوا ہے، جس کے معنی پتھراؤ کرنا۔(لسان العرب - قذف ) شہاب ثاقب کے ذریعہ سے شیطان پر پتھراؤ کئے جانے کا ذکر کیا گیا ہے۔اس کا تعلق انبیاء کے زمانہ سے ہے کہ اس وقت خصوصیت سے شیطان کی شکست کا انتظام کیا جاتا ہے۔اس تعلق میں دیکھئے سورۃ الملک ۶ سورة هود: ۹۲، سورة مريم: ۴۷، سورة الدخان ۲۱) سورۃ لیسبین : 19 سورۃ الشعراء: ۱۱۷۔شیطانوں کی طرف سے انبیاء کو رجم کی دھمکی دی جاتی ہے۔لیکن انجام کار شیطانی لشکر آسمانی رجم یا پھر اؤ سے شکست کھاتے ہیں۔باب ۱۳۸ : يُكَبِّرُ مَعَ كُلِّ حَصَاةٍ ہر کنکری پھینکنے پر اللہ اکبر کہے قَالَهُ ابْنُ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا عَنِ حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ۔سے یہ بات نقل کی ہے۔١٧٥٠: حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ عَنْ عَبْدِ :۱۷۵۰ مدد نے ہم سے بیان کیا کہ عبدالواحد الْوَاحِدِ حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ قَالَ سَمِعْتُ (بن زیاد بصری) سے مروی ہے۔اعمش نے ہم سے الْحَجَّاجَ يَقُوْلُ عَلَى الْمِنْبَرِ السُّورَةُ بیان کیا، کہا: میں نے حجاج بن یوسف) سے سنا۔وہ الَّتِي يُذْكَرُ فِيْهَا الْبَقَرَةُ وَالسُّوْرَةُ الَّتِي منبر پر کہ رہے تھے۔وہ سورۃ جس میں بقرہ کا ذکر اور يُذْكَرُ فِيْهَا آلُ عِمْرَانَ وَالسُّوْرَةُ الَّتِي وہ سورۃ جس میں آل عمران کا ذکر ہے۔نیز وہ سورۃ يُذْكَرُ فِيْهَا النِّسَاءُ قَالَ فَذَكَرْتُ ذَلِكَ جس میں عورتوں (سورۂ نساء) کا ذکر ہے۔اعمش نے لِإِبْرَاهِيْمَ فَقَالَ حَدَّثَنِي عَبْدُ الرَّحْمَنِ کہا: میں نے ابراہیم (شخصی) سے یہ ذکر کیا تو انہوں ابْنِ يَزِيدَ أَنَّهُ كَانَ مَعَ ابْنِ مَسْعُودٍ نے کہا: عبد الرحمن بن یزید نے مجھ سے بیان کیا کہ وہ