صحیح بخاری (جلد سوم)

Page 420 of 743

صحیح بخاری (جلد سوم) — Page 420

صحيح البخاری جلد ۳ م ٢٥ - كتاب الحج بالعموم عرب سر کا اگلا حصہ منڈواتے تھے جس کے لئے مقاوم کا لفظ استعمال کیا گیا ہے اور بعض قبائل بال کٹواتے وقت تھوڑ اسا آٹا سر میں ڈالتے جو بالوں کے ساتھ مل جل کر نیچے گرتا اور یہ تھوڑا تھوڑا آٹا کافی مقدار میں جمع ہو جاتا۔اس کا نام قرہ یعنی ہانڈی کا جلا ہوا تلچھٹ اور یہ آٹا مساکین کو بطور صدقہ دیا جاتا۔جاہلیت کا ایک شاعر ہوازن قبیلہ کو طعنہ دیتا ہے کہ وہ قرہ کھانے والے ہیں۔( أديان العرب في الجاهلية الحج النزول بمزدلفة ومنى وبقية أعمال الحج صفر ۶۴ تا۶۶) مذکورہ بالا چند مثالیں شعرائے جاہلیت کے کلام سے ہیں جن میں حج کا ذکر پایا جاتا ہے اور اس سے پتہ چلتا ہے کہ حضرت ابراہیم علیہ السلام کی قربانیوں کی یاد گار کم و بیش عربوں میں قدیم ایام سے چلی آتی تھی۔ان میں پروہتوں کی ایک جماعت تھی جسے صوفہ کہتے تھے۔جیسے ہندوستان میں پروہت حج کی مراسم ادا کرتے ہیں۔یہ لوگوں کی مدد کرتے تھے۔جب تک وہ رمی جمار نہ کرتے ، لوگ انتظار کرتے اور رمی زوال شمس کے بعد ہوتی اور یہ صوفہ انہیں رمی کے بعد واپس بیت اللہ لے جاتے ؛ جہاں طواف وداع کے بعد حج کی پابندیوں سے آزاد ہو جاتے۔سوائے قبائل از داور غسان کے جو منی سے فارغ ہونے کے بعدمنات کے اس بت کے پاس جا کر احرام کھولتے جو کہ ساحل سمندر پر ” قدید مقام کے قریب واقع تھا اور وہ اسی کے نام سے تلبیہ پکارتے تھے۔منی میں دورانِ قیام ان کا اجتماع ہوتا اور مختلف قبائل اپنے آباؤ اجداد کی مدح سرائی میں مقابلہ کرتے۔اسلام نے ان سب لغو رسومات کا قلع قمع کر کے اصل ملت ابراہیمی قائم کی اور فتح مکہ کے روز آپ کو انُ طَهِّرَا بَيْتِيَ لِلطَّائِفِينَ وَالعَاكِفِينَ وَالرُّكَّعِ السُّجُودِ (البقرۃ:۱۲۶) سے متعلق ارشاد باری تعالیٰ کی تعمیل کرنے کا موقع ملا اور اس کے لیے آپ کو بہت بڑا جہاد کرنا پڑا۔جس کی تفصیل قارئین کتاب المغازی میں پائیں گے۔باب ١٣٥ : رَمْيُ الْحِمَارِ مِنْ بَطْنِ الْوَادِي وادی کے نشیب میں سے رمی کرنا ١٧٤٧: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ كَثِيرٍ ۱۷۴۷: محمد بن کثیر نے ہم سے بیان کیا کہ سفیان أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ عَن الْأَعْمَشِ عَنْ (ثوری) نے ہمیں خبر دی۔انہوں نے اعمش سے، إِبْرَاهِيْمَ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ يَزِيدَ انہوں نے ابراہیم سے، ابراہیم نے عبدالرحمن بن قَالَ رَمَى عَبْدُ اللَّهِ مِنْ بَطْنِ الْوَادِي یزید سے روایت کی۔انہوں نے کہا: حضرت عبداللہ فَقُلْتُ يَا أَبَا عَبْدِ الرَّحْمَنِ إِنَّ نَاسًا (بن مسعودؓ نے وادی کے نشیب میں رمی کی تو میں يَرْمُوْنَهَا مِنْ فَوْقِهَا فَقَالَ وَالَّذِي لَا إِلَهَ نے کہا: ابو عبدالرحمن ! لوگ تو اوپر سے رمی کرتے غَيْرُهُ هَذَا مَقَامُ الَّذِي أُنْزِلَتْ عَلَيْهِ ہیں؟ تو انہوں نے کہا: اس ذات کی قسم ہے جس کے سُوْرَةُ الْبَقَرَةِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سوا کوئی معبود نہیں؛ یہ اس ہستی کا مقام ہے جس پر