صحیح بخاری (جلد سوم)

Page 419 of 743

صحیح بخاری (جلد سوم) — Page 419

صحيح البخاری جلد ۳ ۴۱۹ ٢٥-كتاب الحج تلبیہ میں خدا تعالیٰ کے ساتھ لات و منات و عزیٰ وغیرہ بتوں کو بھی مخاطب کیا جاتا۔اسی طرح قدیم عرب منیٰ میں قربانی بھی کرتے اور رمی بھی اور سرمنڈوانے کے بعد بیت اللہ کا طواف کرتے اور حج کی پابندی سے آزاد ہو جاتے۔ان میں عمرہ کا رواج بھی تھا۔لیکن حج کے ایام میں اسے گناہ کبیرہ اور حرام سمجھتے تھے۔عمرہ ماہ رجب میں کیا جاتا تفصیل کے لئے دیکھئے : أديان العرب في الجاهلية، الحج، النزول بمزدلفة ومنى وبقية أعمال الحج ، صفر ۵۲ تا ۶۸ - منی میں قربانی اور رمی کا ذکر عارق طائی کے اشعار ہیں۔جن سے وہ عمرہ بن ہند ( ملک حیرہ) کو مخاطب کرتا ہے اور کہتا ہے۔حَلَفْتُ بِهَدْي مُشْعَرٍ بَكَرَاتُهُ تَحُبُّ بِصَحْرَاءِ الغَبِيْطِ دَرَادِقُه لَئِنْ لَّمْ تُغَيْرُ بَعْدَ مَا قَدْ صَنَعْتُمُ لا نتَحِينُ لِلْعَظْمِ ذُو أَنَا عَارِقُه (شرح ديوان الحماسة، باب الأضياف، عارق الطائي یعنی میں نے حرم کی قربانیوں کی قسم کھائی جن کے اونٹوں کے کوہان نشان شدہ ہیں۔جن کے ہوتے (اونٹوں کے بچے ) صحراء غبیط میں ڈلکی چلتے ہیں۔اگر تو نے اپنے طور و طریق میں تبدیلی نہ کی اور تیری قوم نے ہم پر جو ظلم کئے ہیں، اگر ان کا تدارک نہ ہوا تو میں ہڈی کو گودے تک چیاؤں گا، جس کا گوشت میں نوچ نوچ کر کھانے والا ہوں۔اسی طرح شنفری اپنے باپ کے قاتل حرام بن جابر سے بمقام منی انتقام لینے کا ذکر کرتا اور فخریہ کہتا ہے :- قَتَلْتُ حَرَامًا مُهدِيًا بِمُلَبَّدٍ بِبَطْنِ مِنَى وَسُطَ الْحَحِيحِ الْمُصَوِّتِ یعنی میں نے حرام کو قتل کر دیا عین اس وقت جب وہ وادی منیٰ میں قربانی کا موٹا تازہ مینڈھالئے جارہا تھا۔حاجیوں کے عین اجتماع میں جب تلبیہ پکار رہے تھے۔منی میں جمرات پر کنکریاں پھینکنے کا بھی ذکر ان کے شعروں میں ہے۔چنانچہ ہنرل شاعر کہتا ہے:- لِادْرِكَهُمْ شُعْثَ النَّوَاصِي كَأَنَّهُمْ سَوَابِقَ حُجَّاجِ تُوَافِي الْمُجَمَّرَا تا کہ میں انہیں پراگندہ پیشانی پاؤں گویا کہ وہ حاجی ہیں جو جمرات میں سب سے پہلے پہنچنے کے لئے ایک دوسرے سے آگے بڑھ رہے ہیں۔حلق یا سر منڈوانے کا ذکر زھیر بن ابی سلمی اپنے اشعار میں کرتا ہے۔کہتا ہے:۔فَأَقْسَمْتُ جَهْدًا بِالْمَنَازِلِ مِنْ مِّنَى وَمَا سُحِقَتْ فِيْهِ الْمَقَادِمُ وَالْقَمِلُ لارْتَحِلَنَّ بِالْفَجْرِ ثُمَّ لَا دُ أَبَنُ إِلَى اللَّيْلِ إِلَّا أَنْ يُحْوِ جَنِي طَفْل یعنی منازل منی کی میں نے پختہ قسم کھائی ہے اور ان چوٹیوں کی جو مونڈھی گئی ہیں اور بالوں کی جن میں جوئیں پڑی ہیں کہ میں ضرور بالضرور فجر کے وقت کوچ کروں گا اور دن رات چلتا جاؤں گا۔سوائے اس کے کہ میری اونٹنی بچہ جنے اور راستہ میں کچھ دیر قیام کرنے پر مجبور کر دے۔