صحیح بخاری (جلد سوم) — Page 418
صحيح البخاری جلد۳ ۴۱۸ ٢٥ - كتاب الحج ڈھیریاں واقع ہیں۔ان پر جو کنکریاں پھینکی جاتی ہیں، تصویری زبان میں شیطان کی اسی ناکامی کا اظہار ہے جو اُ سے ان مواقع پر ہوئی۔یہ پہلے بتایا جا چکا ہے کہ حج کے ارکان زیادہ تر تصویری زبان میں ہیں۔رمی الجمار بھی شیطانی جدوجہد کی ناکامی کا ایک کھلا کھلا اظہار ہے۔شیطان کی صفت جو قرآن مجید میں اس کے انجام کے لحاظ سے بیان کی گئی ہے وہ رجیم ہے۔اس کے معنے ہیں پتھراؤ کیا ہوا اور اس کی اس حقیقت میں ایک عظیم الشان پیشگوئی مضمر ہے کہ حج کے ذریعہ مسلمانوں کو کرائی جانے والی ٹرینگ اس بات کی آئینہ دار ہے کہ وہ آخر اسلام کے ہاتھوں نا کام ہوگا۔مزدلفہ سے آکر ان ڈھیر یوں پر کنکریاں پھینکی جاتی ہیں۔پہلے دن یعنی دس ذواج کو دو پہر سے قبل جمرہ عقبہ پر جو سب سے آخری ڈھیری ہے اور گیارھویں اور بارھویں ذوالحجہ کو سورج ڈھلنے کے بعد تینوں ڈھیریوں پر سات سات کنکریاں۔کنکریوں کے پھینکنے کا مسنون طریق یہ ہے کہ ڈھیریوں کے نشیب میں جنوبی طرف کھڑے ہو کر پھینکی جائیں؛ جبکہ منہ شمال کی طرف ہو۔دائیں ہاتھ کے انگوٹھے اور کلمہ شہادت کی انگلی میں لے کر چھینکی جائیں اور ہر کنکری کے ساتھ اللہ اکبر کہے اور اس کے بعد قربانی کرے، اگر میسر ہو۔یہ مجمل صورت و شکل ہے، اس آخری رکن کی۔جس کے بعد حجامت بنوا کر سوائے ازدواجی تعلقات کے باقی تمام پابندیوں سے حج کرنے والا آزاد ہو جاتا ہے اور اس کے بعد طواف زیارت کیا جاتا ہے اور قیمو د احرام سے وہ پورے طور پر نکل جاتا ہے۔باب نمبر ۱۳۴ کا مقصد حضرت جابر کی روایت کے حوالہ سے ظاہر کیا گیا ہے جو صحیح مسلم میں منقول ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے دسویں تاریخ کو رمی کی اور یہ رمی ظہر سے پہلے کی گئی اور پھر زوال کے بعد گیارھویں اور بارھویں تاریخ کو کی گئی۔اسی طرح تیرھویں تاریخ کو بھی جب آپ نے کوچ کیا۔یہ سوال کہ آیا منی میں قربانی اور رمی کے طریق کا تعلق ملت ابراہیمی سے ہے یا نہیں؟ اس کا جواب عربوں کی قدیم ترین رسومات میں ملتا ہے جو بموقع حج التزام سے ادا کی جاتی تھیں۔ان کا ذکر ایام جاہلیت کے شعراء کے کلام میں بھی پایا جاتا ہے۔حتی کہ تلبیہ کے الفاظ بھی کم و بیش ان میں موجود تھے۔گو جیسا کہ پہلے لکھا جا چکا ہے؛ ان الفاظ میں شرک کی آمیزش کر لی گئی تھی ( دیکھئے تشریح باب ۲۲) اور ہر قبیلہ کے الفاظ تلبیہ الگ ہوتے تھے۔جیسا کہ قبیلہ بجیلہ کا تلبیہ یہ تھا:۔لَبَّيْكَ عَنِ الْبُجَيْلَةِ وَنِعْمَةُ الْقَ يلة الْفَحْمَةِ الرُّجَيْلَة جَاءَ تُكَ بِالْوَسِيلَةِ نُؤْمِلُ الْفَضِيلَة یعنی بجیلہ حاضر ہے جو مضبوط اور بہادر ہے اور وہ قبیلہ کی آسودہ حالی تیرے وسیلہ سے لینے آیا ہے۔ہم فضیلت اور برکت کی اُمید لگائے ہوئے ( آئے ) ہیں۔اس قسم کا ایک اور تلبیہ یہ تھا:- لَيْكَ يَا مُعْطِيَ الأمر جئْنَاكَ فِي الْعَالَمِ الزَّمِر لَبَّيْكَ عَنْ بَنِي النَّـ فَأسِلْ غَيْفا يَنهَمرُ یعنی اے حکومت عطا کرنے والے بنو نمر حاضر ہے۔اس سختی اور تنگ دستی کے زمانہ میں ہم تیرے پاس آئے ہیں کہ تو ایسی رحمت کی بارش برسا جو سیراب کر دے۔(مسلم کتاب الحج، باب بیان وقت استحباب الرمي