صحیح بخاری (جلد سوم) — Page 417
صحيح البخاری جلد ۳ ۴۱۷ ٢٥-كتاب الحج بَاب ١٣٤ : رَمْيُ الْحِمَارِ کنکریاں پھینکنا وَقَالَ جَابِرٌ رَمَى النَّبِيُّ صَلَّى الله اور حضرت جابڑ نے کہا: نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے قربانی عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ النَّحْرِ ضُحًى وَرَمَى کے دن چاشت کے وقت رمی کی اور اس کے بعد آپ نے سورج ڈھلنے پر رمی کی۔بَعْدَ ذَلِكَ بَعْدَ الزَّوَالِ۔١٧٤٦ : حَدَّثَنَا أَبُو نُعَيْمٍ حَدَّثَنَا ۱۷۴۶: ابونعیم نے ہم سے بیان کیا۔مسعر نے مِسْعَرٌ عَنْ وَبَرَةَ قَالَ سَأَلْتُ ابْنَ عُمَرَ ہمیں بتایا کہ وبرہ سے مروی ہے۔انہوں نے کہا: میں رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا مَتَى أَرْمِي الْحِمَارَ نے حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے پوچھا کہ میں قَالَ إِذَا رَمَى إِمَامُكَ فَارْمِهُ فَأَعَدْتُ کنکریاں کب پھینکوں؟ انہوں نے کہا: جب تیرا امام عَلَيْهِ الْمَسْأَلَةَ قَالَ كُنَّا نَتَحَيَّنُ فَإِذَا زَالَتِ الشَّمْسُ رَمَيْنَا۔تشریح: رمی کرے تو تو بھی رمی کر۔میں نے یہ مسئلہ ان سے دوبارہ پوچھا تو انہوں نے کہا کہ ہم وقت کا انتظار کرتے ، جب سورج ڈھل جاتا تو ہم رمی کرتے۔رَمُيُ الْحِمَارِ : پہلےبتایا جا چکا ہے کہ ارکان حج جو واجب ہیں پانچ ہیں۔احرام نیت طواف وسعى بن الصفا والمروة، وقوف عرفات اور قربانی۔اب یہاں سے ان امور کا ذکر شروع ہے جور کن تو نہیں، مگر حج کا ضروری حصہ ہیں۔مثلا رمی ( یعنی تین ڈھیریوں پر کنکریاں پھینکنا ) حلق یا قصر، سر منڈانا یا جسے بال کتروانا۔منی میں تین ٹیلے ہیں۔جنہیں جمرات کہتے ہیں۔جمرہ کے لغوی معنی ہیں کنکریوں کی ڈھیری اور اس کے ایک معنی اجتماع ، لوگوں کا اکٹھا ہو کر کسی بات پر اتفاق کرنا بھی ہیں۔(عمدۃ القاری جزء ۱۰ صفحہ ۹۰) یہ ڈھیریاں تین ہیں۔پہلی جمرۃ الاولی جوسب سے چھوٹی ہے اور دوسری جمرہ وسطی یعنی درمیانی ڈھیری اور جمرہ عقبہ جو مشرق کی طرف ہے اور سب سے بڑی ہے۔یہ منی کا حصہ نہیں ہیں۔بلکہ اس کی آخری حد ہے، جب مکہ مکرمہ سے آیا جائے اور یہاں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے انصار نے بیعت کی تھی کہ اگر آپ مدینہ تشریف لائیں تو وہ آپ کی جان و مال اور عزت و آبرو کی حفاظت میں ہر طرح مدد کریں گے اور یہ ایک اہم تاریخی واقعہ ہے۔(معجم البلدان، باب العين والقاف - عقبة ) روایات میں آتا ہے کہ یہاں شیطان وسواس نے حضرت ابراہیم علیہ السلام کی آزمائش کی مگر وہ کامیاب نہ ہوا۔(تفسير القرطبی، سورة البقرة ،آیت ۱۲۹: رَبَّنَا وَاجْعَلْنَا مُسْلِمَيْنِ لَگ، جز ۲۶ صفحہ ۱۲۹) حضرت ابراہیم علیہ السلام کی آزمائش اور آپ کا اس آزمائش میں پورا اُترنے کا ذکر آیت وَإِذِ ابْتَلَى إِبْرَاهِيمَ رَبُّهُ بِكَلِمَاتٍ فَاتَمُهُنَّ۔(البقرة : ۱۲۵) میں ہے۔منی کی آخری حد میں