صحیح بخاری (جلد سوم) — Page 416
صحيح البخاري - جلد ٣ ۱۶ ٢٥ - كتاب الحج ١٧٤٥ : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ۱۷۴۵ نیز محمد بن عبد اللہ بن نمیر نے ہم سے بیان ابْنِ نُمَيْرٍ حَدَّثَنَا أَبِي حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللهِ کیا کہ میرے باپ نے ہمیں بتایا کہ عبید اللہ نے ہم قَالَ حَدَّثَنِي نَافِعٌ عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ سے بیان کیا، کہا: نافع نے مجھے بتایا۔انہوں نے اللهُ عَنْهُمَا أَنَّ الْعَبَّاسَ الله عنه حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت کی کہ حضرت أَنَّ الْعَبَّاسَ رَضِيَ اسْتَأْذَنَ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عباس رضی اللہ عنہ نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے اجازت طلب کی کہ وہ منی کی راتیں (لوگوں کو ) پانی پلانے کی خاطر مکہ میں رہیں تو آپ نے انہیں اجازت دے دی۔محمد بن عبد اللہ بن نمیر کی طرح ابواسامہ اور عقبہ بن خالد اور ابوضمرہ نے بھی یہی حدیث نقل کی۔لِيَبِيْتَ بِمَكَّةَ لَيَالِيَ مِنِّي مِنْ أَجْلِ سِقَايَتِهِ فَأَذِنَ لَهُ۔تَابَعَهُ أَبُو أُسَامَةَ وَعُقْبَةُ بْنُ خَالِدٍ وَأَبُو ضَمْرَةَ۔اطرافه: ١٦٣٤، ١٧٤٣، ١٧٤٤- تشریح: هَلْ يَبِيتُ أَصْحَابُ السّقَايَةِ أَوْ غَيْرُهُمْ بِمَكَّةَ لَيَالِيَ مِنِّي : عنوانِ باب استفهاميه قائم کر کے جواب حذف کر دیا ہے۔کیونکہ حدیث میں اس بارہ میں صراحت نہیں اور ابواسامہ، عقبہ بن خالد اور ابوضمرہ کے حوالہ جات نقل کرنے کی ضرورت اس مسئلہ کے ازالہ کی غرض سے پیش آئی ہے جو امام احمد بن حنبل کی روایت بسند یحیی بن سعید قطان کی وجہ سے ہوا ہے کہ وہ موصولاً مروی نہیں۔وَقَدْ أَخْرَجَهُ أَحْمَدُ عَنْ يَحْيَ عَنْ عُبَيْدِ اللهِ عَنْ نَّافِعٍ قَالَ لَا أَعْلَمُهُ إِلَّا عَنِ ابْنِ عُمَرَ ( من احمد بن حنبل جز ا صفحہ ۱۹) تفصیل کے لئے دیکھئے: فتح الباری جزء۳ صفحه ۷۳۰ ) ( عمدة القاری جزء ۱۰ صفحه ۸۵ ) ابو ضمرہ کی روایت کے لئے دیکھئے نمبر ۱۶۳۴ بمع شرح۔جمہور کے نزدیک منی کا قیام واجب ہے۔اس وجہ سے اجازت کی ضرورت ہے۔جیسا کہ حضرت عباس وغیرہ نے کی اور احناف کے نزدیک سنت ہے۔پانی پلانے کے علاوہ لکڑ ہاروں، مواشیوں کے گڈریے اور بیماری وغیرہ کی وجہ سے معذوروں کو اجازت ہے کہ اگر وہ قیام نہ کر سکتے ہوں۔امام مالک کے نزدیک منی میں قیام کرنا واجب ہے۔اگر بغیر عذر کے یہ ترک کیا جائے تو فدیہ لازم آتا ہے۔(فتح الباری جز ۳۰ صفحه ۷۳۰۰۷۲۹) ائمہ کا یہ اختلاف باب میں مدنظر ہے۔امام بخاری کے نزدیک فدیہ ثابت نہیں۔