صحیح بخاری (جلد سوم) — Page 415
صحيح البخاری جلد۳ ۴۱۵ ٢٥- كتاب الحج اور اس موقع پر عورتوں سے حسن سلوک کی وصیت کی اور فرمایا کہ وہ تمہارے حکم کی پابند ہیں۔لیکن ویسے ہی تم پر حقوق وواجبات رکھتی ہیں؛ جیسے تمہارے حقوق و واجبات ان پر۔ان کی طبعی یا تربیتی کمزوری سے در گذر کیا کرو اور ان کے ساتھ شفقت و احسان سے پیش آؤ اور یہ نہ سمجھو کہ وہ تمہاری لونڈیاں ہیں۔(ترمذی، کتاب تفسیر القرآن، باب ومن سورة التوبة) اسی طرح غلاموں کے ساتھ بھی اعلیٰ سلوک کی تاکید فرمائی۔(مسند احمد بن حنبل جز ۴ صفحہ ۳۶) یہ خلاصہ ہے اس تاریخی خطبہ منی کا جو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی وفات سے چند ماہ قبل اپنے حج کے موقع پر دیا اور آپ کا یہ حج حجتہ الوداع کے نام سے مشہور ہے۔ابن ماجہ میں حضرت علیؓ سے مروی ہے کہ نزع ( دم واپسیس ) کی حالت میں آخری الفاظ آپ کے لبوں پر یہ تھے: اَلصَّلَاةُ وَمَا مَلَكَتْ أَيْمَانُكُمْ۔(ابن ماجه، كتاب الوصايا، باب هل أوصى رسول اللہ ہم یعنی نمازوں کی حفاظت کرو اور غلاموں سے حسن سلوک سے پیش آؤ۔بَاب ۱۳۳ : هَلْ يَبِيْتُ أَصْحَابُ السِّقَايَةِ أَوْ غَيْرُهُمْ بِمَكَّةَ لَيَالِيَ مِنِّى کیا منی کی راتوں میں مکہ میں پانی پلانے والے یا ان کے سوا اور رات کو مکہ میں رہیں ١٧٤٣ : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدِ بْنِ ۱۷۴۳: محمد بن عبید بن میمون نے ہم سے بیان کیا حَدَّثَنَا عِيْسَى بْنُ يُونُسَ عَنْ عيسى بن یونس نے ہمیں بتایا۔انہوں نے عبید اللہ عُبَيْدِ اللَّهِ عَنْ نَّافِعٍ عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ سے، انہوں نے نافع سے، نافع نے حضرت ابن عمر اللهُ عَنْهُمَا رَخَّصَ النَّبِيُّ صَلَّى الله رضی اللہ عنہما سے روایت کی کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اجازت دی ( رات رہنے کی )۔۔۔میمون عَلَيْهِ وَسَلَّمَ۔۔۔ح۔اطرافه: ١٦٣٤، ١٧٤٤، ١٧٤٥۔١٧٤٤ : حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ مُوسَى :۱۷۴۴ تير يحي بن موسیٰ نے ہم سے بیان کیا کہ محمد حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَكْر أَخْبَرَنَا ابْنُ بن بکر نے ہمیں بتایا کہ ابن جریج نے ہمیں خبر دی کہ جُرَيْجٍ أَخْبَرَنِي عُبَيْدُ اللَّهِ عَنْ نَافِعٍ عَنِ عبد اللہ نے مجھے خبر دی۔انہوں نے نافع سے، نافع ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا أَنَّ النَّبِيَّ نے حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت کی کہ نبی صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَذِنَ۔۔۔ح۔صلی اللہ علیہ وسلم نے اذن دیا۔۔۔۔اطرافه: ١٦٣٤، ١٧٤٣، ١٧٤٥ -