صحیح بخاری (جلد سوم) — Page 414
صحيح البخاری جلد۳ ۴۱۴ ٢٥ - كتاب الحج نہ کرنا اور اس دین سے مرتد ہو کر ایک دوسرے کی گردنیں نہ اُڑانا بلکہ صلح و آشتی کے ساتھ شیر وشکر ہو کر زندگی بسر کرنا۔اس کے بعد تین بار دریافت فرمایا: أَلَا هَلُ بَلَّغْتُ۔سنو! کیا میں نے پورے طور پر تبلیغ کا حق ادا نہیں کر دیا؟ سامعین سے اثبات میں جواب پا کر اللہ تعالیٰ کو مخاطب فرمایا: اللهمَّ اشْهَدُ ( روایت نمبر ۱۷۴۱) کہ اے اللہ تو بھی گواہ رہ کہ میں نے فریضہ تبلیغ جو تو نے مجھ پر عائد کیا تھا، پورے طور پر ادا کر دیا ہے۔قرآن مجید میں آپ کو مخاطب کر کے اللہ تعالیٰ کی طرف سے فرمایا گیا تھا: بَلَغَ مَا أُنْزِلَ إِلَيْكَ مِن رَّبِّكَ وَإِن لَّمْ تَفْعَلْ فَمَا بَلَّغْتَ رِسَالَتَهُ (المائدة: ۲۸) جو تیری طرف تیرے رب کی طرف سے نازل کیا گیا، اسے پورے طور پر پہنچا دے۔اگر کماحقہ تعمیل نہ کی تو ٹو نے اس کا پیغام نہ پہنچایا۔گویا اللہ تعالیٰ کی طرف سے یہ ایک تا کید تھی کہ تبلیغ حق میں کسی قسم کی کوتاہی نہ ہو اور آپ نے ایک فرمانبردار شخص کی طرح اس ارشاد کو قبول فرمایا اور جب وہ فریضہ تبلیغ پورے طور پر ادا کر دیا تو نہ صرف لوگوں کو اس پر گواہ ٹھہرایا اور ان کے اپنے اقرار سے ان پر اتمام حجت کیا بلکہ اللہ تعالیٰ کو بھی پورے ناز سے گواہ ٹھہرایا اور یہی الفاظ دم واپسیں بھی آپ کے مقدس لبوں پر تھے: اللَّهُمَّ اشْهَدُ۔آپ کو فریضہ منصبی کی ادائیگی میں اپنی عظیم الشان کامیابی سے متعلق ایک کامل انشراح صدر تھا۔اس لحاظ سے خطبہ منی کی تاریخی عظمت ہمیشہ کی یادگار ہے۔محولہ بالا روایات میں مذکورہ خطبہ کے الفاظ باعتبار مفہوم تقریباً ایک ہیں۔لیکن صحاح ستہ کی بعض دیگر روایات میں بلحاظ مضمون زیادت ہے۔مثلاً جہاں انسانی جان آئندہ کے لئے قابل عزت قرار دی گئی ہے؛ وہاں سابقہ مقتولوں کے انتقام کا حق بھی منسوخ کیا گیا۔چنانچہ آپ نے اعلان فرمایا کہ میں اپنے چچا حارث بن عبدالمطلب کا خون بھی نظر انداز کرتا ہوں۔یہ بچا بچپن میں بنولیت قبیلہ میں دودھ پلائی اور پرورش کے لئے بھیجے گئے تھے۔اس معصوم بچے کو ہذیل قبیلہ کے کسی فرد نے قریش سے اپنا قصاص لینے کی غرض سے مارڈالا تھا۔(ترمذی کتاب تفسیر القرآن باب ومن سورة التوبة) زمانہ جاہلیت میں عرب لوگ اپنے مقتول کا بدلہ لینے میں اس قدر سخت طبیعت تھے کہ سالہا سال اور نسل در نسل اپنا انتظام نہ بھولتے۔قاتل کے روپوش یا فوت ہونے پر بھی اس کے خاندان میں سے کسی فرد کو قتل کر کے ہی ٹھنڈا سانس لیتے تھے۔ان کا عقیدہ تھا کہ مقتول کی روح الو کی شکل میں قبر کے ارد گرد منڈلاتی اور چلاتی رہتی ہے۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اس موقع پر اس قسم کے سابقہ خون بہا کو منسوخ کر دیا اور فرمایا إِلَّا بِالْحَقِّ (الأنعام:۱۵۲) ان الفاظ سے اعلان کیا کہ آئندہ قصاص صرف مجرم ہی سے لیا جائے۔اِلَّا بِالْحَقِّ کے معنی ہیں کہ جہاں حقوق کا تقاضا ہو۔تحقیق کے بعد عدل و انصاف کے تحت قصاص ہوگا۔اسی طرح ایک اور روایت میں جو اسی خطبہ سے متعلق ہے۔یہ ذکر آیا ہے کہ آپ نے سودی لین دین سمیت جاہلیت کی متعدد رسومات سے متعلق اپنے پاؤں کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرمایا کہ ایسے تمام قرضے میں اپنے پاؤں کے نیچے مسلتا ہوں اور اس اعلان کے ساتھ اپنے چچا حضرت عباس کے سودی قرضوں کی ادائیگی بھی منسوخ فرمائی۔(مسلم، کتاب الحج، باب حجة النبی ) یہ چھا زمانہ جاہلیت میں سودی کاروبار کرتے تھے۔صلى الله