صحیح بخاری (جلد سوم) — Page 27
صحيح البخاری جلد ۳ ۲۷ ٢٤ - كتاب الزكاة وَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما نے کہا: صَلَدًا کے صَلْدًا لَيْسَ عَلَيْهِ شَيْءٌ وَقَالَ عِكْرِمَةُ معنی ہیں اس پر کچھ نہیں ، صاف، چٹیل اور عکرمہ نے وَابِلٌ مَطَرٌ شَدِيدٌ وَالطَّلُّ النَّدَى۔کہا: واہل کے معنی زور دار مینہ اور طلّ کے معنی شبنم۔تشریح: الرِّيَاءُ فِي الصَّدَقَةِ: اس باب کا عنوان بحوالہ آیت قائم کیا گیا ہے تا صدقہ کاسلبی پہلو نمایاں طور پر مد نظر ر ہے۔صدقہ مشتق ہے صَدَقَ سے، جس کے معنی ہیں خالص عمل۔(لسان العرب تحت لفظ صدق ) باب ۶ ودے میں صدقہ کی وہ صورتیں بیان کی گئی ہیں جن سے صدقہ کا مفہوم باطل ہو جاتا ہے۔باب 4 دے کے تحت کوئی روایت نہیں لائی گئی۔اس بارہ میں بعض شارحین کا خیال ہے کہ امام بخاری کو اپنی شرائط صحت کے مطابق کوئی روایت نہیں ملی ، مگر ایسا نہیں۔روایتیں تو موجود ہیں۔دیکھئے روایت نمبر ۱۴۲۴۰۱۴۲۲،۱۴۱۱ وغیرہ۔دراصل ان دونوں ابواب میں صدقہ کا مفہوم منفی جہت سے واضح کرنا مقصود ہے کہ کن حالات میں اس کا صحیح مفہوم قائم نہیں رہتا اور وہ باطل ہو جاتا ہے۔چنانچہ باب ۶ کے آخر میں الفاظ صَلْدًا اور واہل کی تشریح اسی غرض سے کی گئی ہے کہ صدقہ اسی وقت تک صدقہ ہے جب اپنی حقیقت پر مبنی ہو۔دل کی زمین اگر اچھی ہوتو وہ اُگائے گی خواہ بارش کم ہو یا زیادہ۔بَاب : لَا يَقْبَلُ اللهُ صَدَقَةً مِنْ غُلُولِ اللہ تعالیٰ چوری ، خیانت اور رشوت کے مال سے صدقہ قبول نہیں کرتا وَلَا يَقْبَلُ إِلَّا مِنْ كَسْبِ طَيِّبِ لِقَوْلِهِ : اور صرف پاکیزہ کمائی ہی سے قبول کرتا ہے۔کیونکہ قَوْلُ مَّعْرُوفٌ وَمَغْفِرَةٌ خَيْرٌ مِنْ (اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: بھلی بات کہنا اور مغفرت بہتر صَدَقَةٍ يَتْبَعُهَا أَذًى وَاللهُ غَنِيٌّ ہیں اس صدقے سے جس کے بعد ایذا رسانی ہو اور اللہ بے نیاز ، بردبار ہے۔حليم (البقرة: ٢٦٤) تشریح: ط لَا يَقْبَلُ اللهُ صَدَقَةً مِنْ غُلُولٍ : یہ عنوانِ باب ایک مرفوع حدیث کا حصہ ہے جو امام مسلم نے نقل کی ہے : لَا تُقْبَلُ صَلَاةٌ بِغَيْرِ طُهُورٍ وَلَا صَدَقَةٌ مِنْ عُلُولِ۔(مسلم، كتاب الطهارة، باب وجوب الطهارة للصلاة عُلُولٌ کے معنی خیانت کرنا، چوری کرنا، رشوت دینا اور غلول اس مال کو بھی کہتے ہیں جو ناجائز ذرائع سے حاصل کیا جائے۔صدقہ مقبول ہونے کے لئے جیسا یہ ضروری ہے کہ اُس میں ریاء، طعنہ اور ایذاء دہی کا شائبہ نہ ہو۔ایسا ہی یہ بھی ضروری ہے کہ وہ کسب حلال سے ہو۔مذکورہ بالا آیت سے یہ استدلال کیا گیا ہے کہ جب صدقہ احسان جتانے سے جو ایک ادنی ایذاء دہی ہے باطل ہو جاتا ہے تو چوری، رشوت اور خیانت ( جو کہ بہت بڑی ایذاء دہی کا