صحیح بخاری (جلد سوم)

Page 413 of 743

صحیح بخاری (جلد سوم) — Page 413

صحيح البخاری جلد ۳ ۱۳ ٢٥ - كتاب الحج قرار دیا ہے۔(دیکھئے روایت نمبر ۱۷۳۷) یہی مذہب امام شافعی وغیرہ کا ہے۔لیکن امام مالک اور امام ابوحنیفہ کو ان سے اتفاق نہیں۔ان ائمہ کے نزدیک خطبے دراصل تین ہیں۔ساتویں ذوالحجہ کا خطبہ ، عرفات کے دن کا خطبہ ( باب ۹۰ ) اور منی میں قربانی کے دوسرے دن کا خطبہ۔ایام تشریق کے تیسرے دن چونکہ کوچ کیا گیا؟ اس لئے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم لوگوں کو رخصت کرتے وقت ان سے مخاطب ہوئے تھے۔( روایت نمبر ۱۷۴۲) اس قسم کے اختلافات کے پیش نظر مذکورہ بالا باب میں امام موصوف نے اپنی تحقیق پیش کی ہے اور مندرجہ چار روایتوں سے امام شافعی کے مذہب کی تائید کی ہے تفصیل کے لیے دیکھئے عمدۃ القاری جزء ۱۰ صفحہ ۷۸ تا ۸۰۔نیز فتح الباری جز ۳۰ صفحه ۷۲۸۔عنوان باب اور روایات کے الفاظ سے ظاہر ہے کہ یوم اخر کو خطبہ منی ہوا۔(دیکھئے روایت نمبر ۱۷۴۱،۱۷۳۹) اور خطبہ عرفات اس سے الگ ہے۔(دیکھئے روایت نمبر ۱۷۴۰) یہ روایت یہاں مختصر نقل کی گئی ہے ؛ لیکن روایت نمبر ۱۸۴۱ کے تحت یہ روایت مفصل مذکور ہے۔جہاں محرم کو جوتا نہ ملنے کی صورت میں موزہ پہنے کی اجازت دینے کا ذکر ہے۔یہ خطبہ عام نصیحت پر مشتمل ہے۔اس میں احکام حج کا ذکر نہیں۔جس سے بعض نے اسے خطبہ قرار نہیں دیا۔مگر ان کی یہ دلیل روایت نمبر ۱۷۴۲ کے آخر میں ہشام بن غاز کی روایت کے حوالہ سے توڑی گئی ہے۔اس میں مقام وقوف اور میدان منی کی تعیین کا ذکر ہے۔جبکہ روایت نمبر ۱۷۳۹و۱۷۴۱ میں یوم انحر کے الفاظ سے قربانی کے دن کی تعیین ہے۔یعنی دسویں ذی الحجہ۔ان روایتوں سے بتایا گیا ہے کہ آٹھویں ذی الحجہ کا نام یوم الترویہ ہے اور نویں کا نام یوم عرفات اور گیارھویں کا نام یوم النفر اور بارھویں کا نام یوم النفر الاول اور تیرھویں کا نام یوم النفر الثانی۔ان ایام میں سے دسویں، گیارھویں اور بارہویں تاریخیں ایام التشریق سے تعبیر کی جاتی ہیں۔یوم انحر کے خطبہ کی اہمیت سے متعلق دیکھئے روایت نمبر ۱۷۴۱،۱۷۳۹۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے خطبہ منی میں اپنا منشا و مدعا جس اسلوب سے اہل عرب کے ذہن نشین فرمایا ہے؛ اس کے لئے اس سے بہتر اور کوئی اسلوب نہیں ہوسکتا۔آپ نے پہلے انہیں خاموش فرمایا۔پھر دن مہینہ اور مقام دریافت فرمایا؛ جس سے ذہنوں میں حیرت، تعجب اور دریافت کی خواہش ابھری اور وہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی گفتگو سننے کے لئے ہمہ تن گوش ہو گئے۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے پہلے تو ایک مقدس دن اور مقدس مہینہ اور مقدس مقام کی طرف اہل عرب کو توجہ دلائی، جن کی حرمت ان کے دل و دماغ کے تمام گوشوں میں صدیوں سے رچی ہوئی تھی اور پھر فرمایا: ”تمہاری جانیں اور تمہاری آبروئیں اور تمہارے اموال اسی طرح معزز اور مقدس ہیں جس طرح یہ چیزیں۔یہ بیان کیا جا چکا ہے کہ عرب حرم میں لڑائی جھگڑے اور ظلم و تعدی کو بہت بڑا گناہ سمجھتے تھے۔یہاں تک کہ حرم میں جائز قصاص لینا بھی ان کے نزدیک ناجائز تھا اور فرمایا کہ جان و مال اور عزت و آبرو کا یہ تقدس صرف اس دن یا اس مہینے یا اس مقام کے لئے مخصوص نہیں بلکہ إِلَى يَوْمِ تَلْقَوْنَ رَبَّكُمُ کہ یہ چیزیں ہمیشہ اسلام میں معزز رہیں گی۔یہ فرما کر سابقہ خون بہا، قصاص اور سودی لین دین سب کا لعدم کر دیئے۔حتی کہ اپنے ایک قریبی عزیز کا قصاص بھی معاف فرما دیا۔یہ اعلان کرنے کے بعد آپ نے نصیحت فرمائی کہ اسی دین پر قائم رہنا، اختلاف