صحیح بخاری (جلد سوم) — Page 412
صحيح البخاري - جلد۳ ٢٥- كتاب الحج عُمَرَ رَضِيَ ابْنُ مُحَمَّدِ بْنِ زَيْدٍ عَنْ أَبِيْهِ عَنِ ابْنِ خبردی کہ ان کے باپ ( محمد بن زید بن عبد اللہ بن عمر ) اللهُ عَنْهُمَا قَالَ قَالَ النَّبِيُّ سے مروی ہے۔انہوں نے حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمِنِّى أَتَدْرُونَ سے روایت کی کہ انہوں نے کہا: نبی صلی اللہ علیہ وسلم أَيُّ يَوْمٍ هَذَا قَالُوْا اللَّهُ وَرَسُوْلُهُ أَعْلَمُ نے منی میں فرمایا: کیا تم جانتے ہو کہ یہ کونسا دن ہے؟ فَقَالَ فَإِنَّ هَذَا يَوْمٌ حَرَامٌ أَفَتَدْرُونَ أَيُّ تو لوگوں نے کہا: اللہ اور اس کا رسول بہتر جانتے بَلَدٍ هَذَا قَالُوا اللَّهُ وَرَسُوْلُهُ أَعْلَمُ قَالَ ہیں۔آپ نے فرمایا: یہ حرمت والا دن ہے اور تم جانتے ہو، یہ کونسا شہر ہے؟ انہوں نے کہا: اللہ اور اس بَلَدٌ حَرَامٌ أَفَتَدْرُوْنَ أَيُّ شَهْرٍ هَذَا کا رسول بہتر جانتے ہیں۔فرمایا: حرمت والا شہر اور تم قَالُوْا اللَّهُ وَرَسُولُهُ أَعْلَمُ قَالَ شَهْرٌ جانتے ہو کہ یہ کونسا مہینہ ہے؟ انہوں نے کہا: اللہ اور حَرَامٌ قَالَ فَإِنَّ اللهَ حَرَّمَ عَلَيْكُمْ اس کا رسول بہتر جانتے ہیں۔فرمایا: حرمت والا مہینہ۔دِمَاءَكُمْ وَأَمْوَالَكُمْ وَأَعْرَاضَكُمْ آپ نے فرمایا: تو یاد رکھو کہ اللہ نے تمہارے خون، كَحُرْمَةِ يَوْمِكُمْ هَذَا فِي شَهْرِكُمْ هَذَا تمہارے مال، تمہاری آبروئیں اسی طرح حرام کی فِي بَلَدِكُمْ هَذَا۔وَقَالَ هِشَامُ بْنُ الْغَازِ ہیں جس طرح کہ تمہارے اس دن کی حرمت، أَخْبَرَنِي نَافِعٌ عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ تمہارے اس مہینہ میں، تمہارے اس شہر میں۔اور ہشام بن غاز نے کہا: نافع نے مجھے خبر دی کہ حضرت عَنْهُمَا وَقَفَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے۔نبی صلی اللہ علیہ وسلم وَسَلَّمَ يَوْمَ النَّحْرِ بَيْنَ الْجَمَرَاتِ فِي نے قربانی کے دن جمرات کے درمیان اس حج میں جو الْحَجَّةِ الَّتِي حَجَّ بِهَذَا وَقَالَ هَذَا يَوْمُ آپ نے کیا، وقوف فرمایا اور کہا: یہ حج اکبر کا دن ہے۔الْحَجَ الْأَكْبَرِ فَطَفِقَ النَّبِيُّ صَلَّى الله في صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ کہنا شروع کیا: اے میرے عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُوْلُ اللَّهُمَّ اشْهَدْ وَوَدَّعَ الله ! گواہ رہو اور لوگوں کو الوداع کیا تو وہ کہنے لگے: یہ النَّاسَ فَقَالُوْا هَذِهِ حَجَّةُ الْوَدَاعِ۔حجۃ الوداع ہے۔اطرافه: ٤٤٠٣ ، ٦٠٤٣، ٦١٦٦، ٦٧٨٥، ٦٨٦٨، ٧٠٧٧۔تشریح اَلْخُطْبَةُ أَيَّامَ مِنی : حج کے ایام میں تین خطبے مسنون ہیں۔قربانی کے دن مقام منی میں جب آپ سے فتویٰ پوچھا گیا؟ اسے بھی چونکہ خطبہ کے نام سے موسوم کیا گیا ہے، اس لئے بعض نے یہ چوتھا خطبہ