صحیح بخاری (جلد سوم)

Page 26 of 743

صحیح بخاری (جلد سوم) — Page 26

صحيح البخاری جلد۳ - ۲۶ ٢٤ - كتاب الزكاة حَدَّثَنِي قَيْسٌ عَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ رَضِيَ ہے۔انہوں نے کہا :) قیس (بن ابی حازم) نے اللهُ عَنْهُ قَالَ سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى الله مجھے بتایا کہ حضرت ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے مروی عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُوْلُ لَا حَسَدَ إِلَّا فِی ہے۔انہوں نے کہا: میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم اثْنَتَيْنِ رَجُلِ آتَاهُ اللَّهُ مَالًا فَسَلَّطَهُ عَلَی سے سنا۔آپ فرماتے تھے : رشک نہیں کرنا چاہیے مگر هَلَكَتِهِ فِي الْحَقِّ وَرَجُلٌ آتَاهُ اللَّهُ روہی (آدمیوں) پر۔ایک وہ شخص جس کو اللہ تعالی نے مال دیا ہو اور پھر اس کو بر محل خرچ کرنے کی توفیق حِكْمَةً فَهُوَ يَقْضِي بِهَا وَيُعَلِّمُهَا۔دے اور وہ شخص جس کو اللہ تعالیٰ نے صحیح علم دیا ہو اور وہ خود بھی اس پر عمل کرتا ہے اور لوگوں کو بھی سکھاتا ہے۔اطرافه ۷۳، ٧١٤۱، ٧٣١٦۔تشریح: کا حکم اس بارے میں صریح ہے۔اللہ تعالیٰ سورۃ بنی اسرائیل میں جہاں فی سبیل اللہ خرچ کرنے کا حکم دیتا ہے، وہاں اسراف سے روکتے ہوئے اس طرف توجہ دلاتا ہے کہ اللہ تعالیٰ بھی بعض کو رزق کشادگی سے دیتا ہے اور بعض پر اس کے راستے تنگ کر دیتا ہے اور اس کا ہر فعل اس کی دو صفتوں خبیر اور بصیر سے صادر ہوتا ہے۔خَبیر کے معنی اندرونی حال سے واقف اور بصیر کے معنی دور کے نتائج کو دیکھنے والا ہیں۔انفاق میں انہی دو صفتوں کو اپنانے کی طرف توجہ دلائی گئی ہے۔فرماتا ہے: اِنَّ رَبَّكَ يَبْسُطُ الرِّزْقَ لِمَنْ يَشَاءُ وَيَقْدِرُ إِنَّهُ كَانَ بِعِبَادِهِ خَبِيرًا بَصِيرًاه (بنی اسرائیل: ۳۱) تیرا رب جس کے لئے چاہتا ہے رزق کو وسیع کر دیتا ہے اور جس کے لئے چاہتا ہے تنگ کرتا ہے۔وہ یقینا اپنے بندوں (کے حالات سے خوب واقف اور خوب دیکھنے والا ہے۔برمحل خرچ کرنے کی مثالوں کے لئے دیکھئے باب ۱۴ و باب ۱۵۔إِنْفَاق الْمَالِ فِي حَقِّهِ : عمل صالح کی تعریف اسلامی نقطہ نگاہ سے یہی ہے کہ برمحل ہو۔قرآن مجید بَاب ٦ : الرِّيَاءُ فِي الصَّدَقَةِ صدقہ میں ریا کاری ط لِقَوْلِهِ : يَايُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لَا تُبْطِلُوا کیونکہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ اے مومنو! اپنے صدقوں صَدَقَتِكُمْ بِالمَنِ وَالْأَذَى إِلَى قَوْلِهِ لو احسان جتا کر اور ایذا دہی سے برباد نہ کیا کرو۔اس شخص کی طرح جو لوگوں کے دکھاوے کے لئے اپنا وَاللَّهُ لَا يَهْدِى الْقَوْمَ الْكَفِرِينَ مال خرچ کرتا ہے اور اللہ اور یوم آخرت پر یقین نہیں (البقرة : ٢٦٥) رکھتا اور اللہ ناشکر گزاروں کی راہنمائی نہیں کیا کرتا۔