صحیح بخاری (جلد سوم) — Page 402
صحيح البخاری جلد۳ ۴۰۲ ٢٥ - كتاب الحج ابن اثیر نے اپنی تصنیف النہایہ میں لکھا ہے کہ مذکورہ بالا واقعہ حلق اور قصر کا تعلق صلح حدیبیہ کے موقع سے ہے۔عربوں میں قصر پسند کیا جاتا اور حلق نہیں۔اس لئے جنہوں نے حلق کیا؛ انہوں نے تعمیل حکم کا ثبوت انشراح صدر سے دیا۔امام ابن حجر نے یہ تاویل رڈ کی ہے اور بتایا ہے کہ عمرہ میں قصر اور حج میں حلق مستحب تھا اور اس بارہ میں خطابی کا قول نقل کیا ہے۔جس سے ابن اثیر کے قول عدم انشراح صدر کی تائید نہیں ہوتی۔بلکہ جیسا کہ خطابی نے عربوں کے رواج کی تصریح کی صلى الله ہے؛ اس کی تائید ہوتی ہے۔یعنی ان کے ہاں بال چھوڑنے کو پسند کیا جاتا ہے۔(فتح الباری جز ۳۰ صفحہ۷۱۲ ) امام بخاری کے نزدیک محولہ بالا دعا کا تعلق حجتہ الوداع سے ہے نہ کہ صلح حدیبیہ سے۔بے شک حضرت ابو ہریرہ کی روایت میں حجتہ الوداع کا ذکر نہیں ، نہ صلح حدیبیہ کا ؛ جس کے بعد وہ مسلمان ہوئے ہیں۔مگر روایت نمبر ۱۷۲۸ سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ روایت بالمعنی ہے۔(فتح الباری جز ۳۰ صفحہ اے ) لیکن حضرت ابن عمر کی روایت جو باب کی پہلی روایت ہے۔اس میں یہ الفاظ ہیں کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے حج میں سرمنڈوایا۔آپ نے ہجرت کے بعد یہی ایک حج کیا تھا جو حجۃ الوداع کے نام سے مشہور ہے۔روایت نمبر ۱۷۲۶ ایک دوسری سند سے بھی نقل کی گئی ہے۔اس میں ہے کہ بعض نے حلق کیا اور بعض نے قصر اور آپ نے دعا کی۔(مسلم، کتاب الحج، باب تفضيل الحلق على التقصير ) دونوں روایات ( نمبر ۱۷۲۶ ، ۱۷۲۷) کو ملا کر دیکھا جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ یہ حجۃ الوداع میں ہی ہوا ہے۔اس باب کی چوتھی روایت جو حضرت عبد اللہ بن عمرؓ سے مروی ہے؛ امام موصوف نے کتاب المغازی میں بھی بسید موسیٰ بن عقبہ نقل کی ہے۔اس میں ان الفاظ سے صراحت ہے کہ أَنَّ النَّبِ لا حَلَقَ فِي حَجَّةِ الْوَدَاعِ وَأَنَاسٌ مِنْ أَصْحَابِهِ وَقَصَّرَ بَعْضُهُمْ۔(روایت نمبر ۴۳۱) نبی صلی اللہ علیہ وسلم اور بعض صحابہ نے حلق کیا اور بعض نے قصر۔پانچویں روایت حضرت ابن عباس بسند ابن جریج نقل کی گئی ہے۔اس میں حضرت معاویہ کا آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے بال قینچی سے نسخے کرانے کا ذکر ہے۔یہ واقعہ حدیبیہ کا ہے۔پہلی اور یہ روایت آپس میں متضاد نہیں ؛ بلکہ در حقیقت دو مختلف موقعوں سے متعلق ہیں۔ایک حجتہ الوداع کا موقع جب آپ نے حلق کیا اور دوسرا موقع حدیبیہ کا ؛ جہاں آپ عمرہ سے روکے گئے اور آپ نے قربانی کرنے کے بعد بال کتروائے۔خلاصہ یہ کہ عنوان باب کا مضمون واضح ہے۔احرام کی حالت سے نکلنے کے وقت حلق یا قصر کیا جاتا ہے۔تفصیل کے لئے دیکھئے۔(فتح الباری جزء ۳ صفحہا اے تا ۷۱۴ ) (عمدۃ القاری جزء ۱ صفحه ۶۲) قرآن کریم میں دونوں باتوں کا ذکر ہے۔فرماتا ہے: لَتَدْخُلُنَّ الْمَسْجِدَ الْحَرَامَ إِنْ شَاءَ اللَّهُ آمِنِيْنَ مُحَلِقِينَ رُؤُوسَكُمْ وَمُقَصِّرِينَ لَا تَخَافُونَ۔(الفتح: ۲۸) آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اور صحابہ کرام نے دونوں پر عمل کیا اور ارشادِ باری تعالیٰ وَلَا تَحْلِقُوا رُؤُوسَكُمْ حَتَّى يَبْلُغَ الْهَدَى مَحِلَّهُ۔(البقرۃ: ۱۹۷) سے بھی معلوم ہوتا ہے۔حلق علامت ہے احلال یعنی احرام کی حالت سے نکلنے کی اور اس لئے یہ مناسک حج میں سے ہے۔فقہاء نے اس ضمن میں یہ سوال بھی اٹھایا ہے کہ بال کس قدرمنڈ وائے یا کتروائے جائیں۔امام مالک اور امام احمد بن حنبل کے نزدیک سارے اور امام ابوحنیفہ کے نزدیک ایک چوتھائی کافی ہیں۔(فتح الباری جزء ۲ صفحہ ۷۱۳ ) یہ اختلاف بھی امام موصوف کے مدنظر ہے۔اس میں کوئی تخصیص نہیں۔