صحیح بخاری (جلد سوم)

Page 401 of 743

صحیح بخاری (جلد سوم) — Page 401

صحيح البخاري - جلد۳ ۴۰۱ ٢٥ - كتاب الحج وَلِلْمُقَصِّرِينَ قَالَ اللَّهُمَّ اغْفِرْ کو بھی۔فرمایا: اے اللہ ! سرمنڈوانے والوں کو بخش۔لِلْمُحَلِقِيْنَ قَالُوا وَلِلْمُقَصِّرِيْنَ قَالَهَا انہوں نے کہا: اور بال کتر وانے والوں کو بھی۔آپ ثَلَاثًا قَالَ وَلِلْمُقَصِّرِيْنَ۔نے (سرمنڈوانے والوں کے لیے ) تین بار فرمایا۔پھر فرمایا: بال کتروانے والوں کو بھی۔۱۷۲۹ : حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ :۱۷۲۹ : عبد اللہ بن محمد بن اسماء نے ہم سے بیان کیا ابْنِ أَسْمَاءَ حَدَّثَنَا جُوَيْرِيَةُ بْنُ أَسْمَاءَ کہ جویریہ بن اسماء نے ہمیں بتایا۔انہوں نے نافع عَنْ نَّافِعِ أَنَّ عَبْدَ اللهِ قَالَ حَلَقَ النَّبِيُّ سے روایت کی کہ حضرت عبداللہ بن عمر ) نے کہا: نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اور آپ کے صحابہ میں سے ایک گروہ نے سر منڈوایا اور ان میں سے بعض نے بال صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَطَائِفَةٌ مِّنْ أَصْحَابِهِ وَقَصَّرَ بَعْضُهُمْ۔اطرافه ١٧٢٦، ٤٤١٠، ٤٤١١۔کتروائے۔۱۷۳۰ : حَدَّثَنَا أَبُو عَاصِمٍ عَنِ ابْنِ ۱۷۳٠ : ابو عاصم نے ہم سے بیان کیا۔انہوں نے جُرَيْجٍ عَنِ الْحَسَنِ بْنِ مُسْلِمٍ عَنْ ابن جریج سے، انہوں نے حسن بن مسلم سے، حسن طَاوُسٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ عَنْ مُعَاوِيَةَ نے طاؤس سے، طاؤس نے حضرت ابن عباس سے، رَضِيَ اللهُ عَنْهُمْ قَالَ قَصَّرْتُ عَنْ حضرت ابن عباس نے حضرت معاویہ رضی اللہ عنہم رَسُوْلِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سے روایت کی۔انہوں نے کہا کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے بال ایک بڑی قینچی سے کترے۔بِمِشْقَصٍ۔تشریح: اَلْحَلْقُ وَالتَّقْصِيرُ عِنْدَ الْإِحْلَالِ : حلق یا تقصیر کے بارہ میں ایک اختلاف یہ بھی ہے کہ آیا یہ مناسک حج میں سے ہیں یا مباحات میں سے یعنی ایسے امور جن کا کرنے یا نہ کرنے کا اختیار ہے۔جمہور کے نزدیک یہ مناسک حج میں سے ہے۔جس کی طرف امام بخاری نے عنوانِ باب میں عِندَ الْإِحْلَالِ کے الفاظ سے اشارہ کیا ہے۔یعنی احرام کھولنے پر۔اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی دعا سے بھی ظاہر ہے کہ آپ نے حج کی قبولیت میں حلق یا قصر دونوں کو شامل فرمایا ہے۔دعا کا تعلق ثواب سے ہے اور ثواب عبودیت پر ہوتا ہے۔اگر یہ صورت صرف مباح ہوتی تو مباحات میں ایک مباح شے کو دوسری مباح شے پر فضیلت کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔مگر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی دعا سے ظاہر ہے کہ حلق کو قصر پر فضیلت ہے۔(فتح الباری جزء ۳ صفحہ ۷۰۹)