صحیح بخاری (جلد سوم)

Page 25 of 743

صحیح بخاری (جلد سوم) — Page 25

صحيح البخاری جلد۳ ۲۵ ٢٤ - كتاب الزكاة روایت نمبر ۱۴۰۷ سے کی گئی ہے۔پہلی روایت سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ لوگوں کے بکثرت آنے جانے کی وجہ سے حضرت ا۔ابوذر کو مقام ربذہ میں چلے جانے کا حکم دیا گیا تھا۔لیکن دوسری روایت میں اس امر کی تصریح ہے کہ وہ لوگوں میں مال جمع کرنے والوں کے خلاف نفرت کے جذبات ابھارتے تھے اور اپنی رائے پر مصر تھے اور ایسے طریق سے اپنی رائے پیش کرتے تھے کہ فتنے کا اندیشہ ہوا۔اس لئے انہیں مدینہ سے باہر جانے کا مشورہ دیا گیا۔(اس تعلق میں کتاب العلم باب ۱۰ کی تشریح بھی ملاحظہ ہو ) گنز کیا ہے اور کس قدر مال پر اطلاق پاتا ہے؟ فقہاء کے درمیان اس بارے میں اختلاف ہوا ہے اور اس اختلاف کی بناء پر مسائل کے استنباط میں بھی ان کی رائے مختلف ہے۔اس تعلق میں باب ۲۸٫۲۳ کی تشریح بھی دیکھئے۔روپیہ جمع کرنے والے کی نسبت آیت محولہ بالا میں یہ جو تخصیص کی گئی ہے: وَلَا يُنفِقُونَھا کہ مال جمع کر رکھا ہے اور وہ اسے خرچ نہیں کرتے۔ایسے لوگوں کی سزا اس آیت میں سخت بیان کی گئی ہے۔حضرت ابوذر نے اس سزا کی تختی کو تمثیلا بیان کیا ہے۔در حقیقت یہ مخل وحرص ہی ہے کہ جو نہ صرف جمع کرنے والے انسان کی خدا دا د قوت عمل معطل کر دیتی ہے بلکہ دوسروں کو بھی بے کار جمع شدہ مال کے استفادہ سے محروم رکھتی ہے۔بلکہ ساری قوم کی حالت اقتصادیہ کو منجمد کر کے اس کو کئی قسم کے خطرات میں ڈالنے کا موجب بنتی ہے۔یہ نتائج ہر کس و ناکس کی سمجھ میں نہیں آتے۔اس لئے اس مخصوص گناہ کے بھیانک نتائج سمجھانے اور واضح کرنے کے لئے اس کی سزا تمثیلاً بیان کی گئی ہے۔ملکیت اور انفاق معاشرہ کے دو اہم رکن ہیں۔اگر ملکیت سے کنز یعنی سرمایہ اندوزی کی صورت پیدا ہوتی ہے تو سرمایہ اندوز کا انجام بدمحولہ بالا آیت میں واضح طور پر بتایا گیا ہے۔لیکن اگر سرمایہ اندوزی کے ساتھ ساتھ انفاق فی سبیل اللہ کی مختلف صورتیں قائم رہیں تو پھر ملکیت مبارک اور اقتصادیات کی ترقی کے لئے ایک اہم رکن بن جاتی ہے۔زکوۃ کی شرعی علت غائی در حقیقت تزکیہ نفس ہے۔دولت مند میں ذخیرہ اندوزی کا ایک طبعی میلان ہوتا ہے۔جتنا روپیہ کسی کے پاس جمع ہو؛ اتنا ہی وہ حریص اور مزید جمع کرنے کی قدرت رکھتا ہے۔زکوۃ سے اس مخصوص طبعی میلان کی اصلاح بھی ہوتی ہے۔ایک مسلمان دولت مند جو احکام اسلام کا پابند ہے، اپنی بے کار دولت سے متعلق دوراہوں میں سے ایک راہ اختیار کرنے پر مجبور ہے یا وہ اس کی زکوۃ نکالے گا۔ورنہ اسے کاروبار میں لگائے گا۔اس طرح دونوں صورتوں میں ہی اس کے اندوختہ سرمائے کا تزکیہ ہوتا رہتا ہے۔اس تعلق میں دیکھئے باب نمبر ۲۳۱۱، ۲۸۔بَابِهِ : إِنْفَاقُ الْمَالِ فِي حَقِهِ مال خرچ کرنا جہاں خرچ کرنے کا حق ہے ١٤٠٩ : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى :۱۴۰۹ محمد بن مثنیٰ نے ہم سے بیان کیا، (کہا: ) سیمی حَدَّثَنَا يَحْيَى عَنْ إِسْمَاعِيْلَ قَالَ نے ہمیں بتایا کہ اسماعیل ( بن ابی خالد ) سے مروی