صحیح بخاری (جلد سوم)

Page 394 of 743

صحیح بخاری (جلد سوم) — Page 394

صحيح البخاری جلد۳ موسم ٢٥-كتاب الحج رَسُوْلِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رضی اللہ عنہا سے سنا۔وہ کہتی تھیں: ذی القعدہ میں ابھی لِخَمْسِ بَقِيْنَ مِنْ ذِي الْقَعْدَةِ وَلَا نَرَى پانچ دن باقی تھے کہ ہم (مدینہ سے ) رسول اللہ علی إِلَّا الْحَجَّ حَتَّى إِذَا دَنَوْنَا مِنْ مَّكَّةَ أَمَرَ کے ساتھ نکلے اور ہمارا بھی خیال تھا کہ حج ہوگا۔جب رَسُوْلُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَنْ ہم مکہ کے قریب پہنچے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم لَّمْ يَكُنْ مَّعَهُ هَدْيَ إِذَا طَافَ بِالْبَيْتِ نے فرمایا: جس کے ساتھ قربانی کا جانور نہیں جب وہ بیت اللہ کا طواف (اور صفا و مروہ کی سعی ) کرلے تو ثُمَّ يَحِلُ۔قَالَتْ عَائِشَةُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا احرام کھول کر آزاد ہو جائے۔حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فَدُخِلَ عَلَيْنَا يَوْمَ النَّحْرِ بِلَحْمِ بَقَرِ کہتی تھیں کہ قربانی کے دن ہمارے پاس گائے کا فَقُلْتُ مَا هَذَا فَقِيْلَ ذَبَحَ النَّبِيُّ صَلَّی گوشت لایا گیا۔میں نے کہا کہ یہ کیا ہے؟ تو کہا گیا الله عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ أَزْوَاجِهِ۔قَالَ که نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی ازواج کی طرف سے يَحْيَى فَذَكَرْتُ هَذَا الْحَدِيْثَ لِلْقَاسِمِ قربانی کی ہے۔سیمی نے کہا: میں نے قاسم (بن محمد ) فَقَالَ أَتَتْكَ بِالْحَدِيْثِ عَلَى وَجْهِهِ۔سے اس حدیث کا ذکر کیا تو انہوں نے کہا: عمرہ نے یہ حدیث ٹھیک طور پر تم سے بیان کی ہے۔اطرافه: ٢٩٤، ٣٠٥، ۳۱٦، ۳۱۷، ۳۱۹، ۳۲۸، ١٥١٦، ١٥١٨، ١٥٥٦، ١٥٦٠، ،۱۷۷۱ ،۱۷۶۲ ،۱۷۰۷ ،۱۷۳۳ ،۱۷۰۹ ،۱١٥٦١، ١٥٦٢، ١٦٣٨، ٦٥٠ ،٤، ٤٤٠١۳۹۵ ،۲۹۸۴ ،۲۹۰۲ ،۱۷۸۸، ،۱۷۸۷، ،۱۷۸۶ ،۱۷۸۳ ،۱۷۷۲ ۷۲۲۹ ،٥، ٥٥٤٨ ٥٥٥٩، ٦١٥٧۳۲۹ ،٤٤٠٨ تشریح: مَا يُؤْكَلُ مِنَ الْبُدْن وَمَا يُتَصَدَّقُ : بعض آئمہ اور فقہاء نے سوال اٹھایا ہے کہ کس قسم کی قربانی کا گوشت کھایا جائے اور کسی قسم کا نہ کھایا جائے؟ جمہور ( یعنی مالکی ، احناف اور حنابل ) کے نزدیک صدقہ اور کفارہ کی قربانی کا گوشت خود استعمال کرنا جائز نہیں اور بعض نے اجازت دی ہے۔اس ضمن میں فقہاء نے یہ سوال اٹھایا ہے کہ اگر مناسک حج میں سے بعض قابل عمل ضروری باتیں رہ جائیں یا جو باتیں کرنے کی نہیں ہیں ؟ وہ کر لی جائیں تو اس صورت میں اس کو تاہی پر کیا تعزیر ہوگی۔اس کے لئے انہوں نے کفارہ تجویز کیا ہے۔بصورت قربانی ہو یا مساکین کو کھلائے یا روزے رکھے اور اگر غیر واجب امور ترک ہو جائیں تو اس میں کفارہ اختیاری ہے۔غرض یہ وہ اختلافی باتیں ہیں جن کے پیش نظر مذکورہ بالا باب قائم کیا گیا ہے۔(فتح الباری جز ۳۰ صفحه ۷۰۴) حضرت ابن عمر کی روایت کا حوالہ دے کر بتایا ہے کہ قربانی کرنے والا قربانی کے جانور کا گوشت کھا سکتا ہے؛ سوائے