صحیح بخاری (جلد سوم) — Page 393
صحيح البخاری جلد ۳ ۳۹۳ بَاب ١٢٤ : وَمَا يُؤْكَلُ مِنَ الْبُدْنِ وَمَا يُتَصَدَّقُ قربانی کے جانوروں سے کیا کچھ کھایا جائے ، کیا صدقہ میں دیا جائے ٢٥-كتاب الحج وَقَالَ عُبَيْدُ اللَّهِ أَخْبَرَنِي نَافِعٌ عَنِ اور عبید اللہ نے کہا: نافع نے مجھے خبر دی۔انہوں نے ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا لَا يُؤْكَلُ حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت کی: (احرام مِنْ جَزَاءِ الصَّيْدِ وَالنَّذْرِ وَيُؤْكَلُ مِمَّا میں) شکار شدہ جانور کے فدیہ اور نذر سے نہ کھایا سِوَى ذَلِكَ وَقَالَ عَطَاءٌ يَأْكُلُ جائے اور ان کے ماسوا سے کھایا جائے۔اور عطاء نے کہا کہ تمتع کی قربانی سے خود بھی کھائے اور کھلائے۔وَيُطْعِمُ مِنَ الْمُتْعَةِ۔۱۷۱۹: حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ حَدَّثَنَا :۱۷19 مسدد نے ہم سے بیان کیا کہ بچی نے ہمیں يَحْيَى عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ حَدَّثَنَا عَطَاءً بتایا۔انہوں نے ابن جریج سے روایت کی کہ عطاء نے سَمِعَ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللهِ رَضِيَ الله ہم سے بیان کیا۔انہوں نے حضرت جابر بن عبد اللہ عَنْهُمَا يَقُوْلُ كُنَّا {لَا تَأْكُلُ مِنْ رضی اللہ عنہما سے سنا۔وہ کہتے تھے۔منی میں ہم تین دن سے زیادہ اپنے قربانی کے اونٹ کا گوشت نہیں کھایا لُحُومِ بُدْنِنَا فَوْقَ ثَلَاثِ مِنِّى فَرَخَّصَ کرتے تھے۔نبی ﷺ نے ہمیں اجازت دی اور لَنَا النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ فرمایا: کھاؤ اور بطور زادِراہ بھی لے لو تو ہم نے کھایا كُلُوْا وَتَزَوَّدُوْا فَأَكَلْنَا وَتَزَوَّدْنَا قُلْتُ اور بطور زادراہ لے لیا۔(ابن جریج کہتے تھے: ) میں نے لِعَطَاءٍ أَقَالَ حَتَّى جِئْنَا الْمَدِينَةَ قَالَ لَا عطاء سے کہا: کیا آپ نے یہ فرمایا کہ اس وقت تک کھائیں کہ ہم مدینہ میں پہنچیں۔انہوں نے کہا : نہیں۔اطرافه ۲۹۸۰، ٥٤٢٤ ٥٥٦٧ ۱۷۲۰ : حَدَّثَنَا خَالِدُ بْنُ مَخْلَدٍ :۱۷۲۰ خالد بن مخلد نے ہم سے بیان کیا کہ سلیمان حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ قَالَ حَدَّثَنِي يَحْيَى قَالَ نے ہمیں بتایا۔انہوں نے کہا: تیجی ( بن سعید انصاری) حَدَّثَنِي عَمْرَةُ قَالَتْ سَمِعْتُ عَائِشَةَ نے مجھ سے بیان کیا۔انہوں نے کہا کہ عمرہ نے مجھ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا تَقُوْلُ خَرَجْنَا مَعَ سے بیان کیا۔کہتی تھیں کہ میں نے حضرت عائشہ فتح الباری مطبوعہ بولاق میں اس جگہ لفظ "لا تاکل" ہے۔(فتح الباری جزء حاشیہ صفحہ ۷۰۴) ترجمہ اس کے مطابق ہے۔