صحیح بخاری (جلد سوم) — Page 392
صحيح البخاری جلد ۳ باب ۱۲۳ ٢٥-كتاب الحج وَإِذْ بَوَّأْنَا لِإِبْرَاهِيمَ مَكَانَ الْبَيْتِ أَنْ (سورۃ حج میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ) اور جب ہم نے لَا تُشْرِكْ بِي شَيْئًا وَطَهَرُ بَيْتِيَ لِلطَّائِفِينَ ابراہیم کے لئے بیت اللہ کے مقام کی نشان دہی کی وَالْقَائِمِينَ وَالرُّكَعَ السُّجُودِ وَأَذِنْ ( اور کم دیا کہ تو کسی کومیرا شریک نہ ظہرانا اور طواف کرنے والوں کو اور عبادت گزاروں اور رکوع و سجود فِي النَّاسِ بِالْحَجَ يَأْتُوكَ رِجَالًا وَعَلَى کرنے والوں کے لئے میرے گھر کو پاک صاف رکھنا كُلِّ ضَامِرٍ يَأْتِينَ مِنْ كُلِّ فَجٍّ عَمِيقٍ اور لوگوں میں حج کی منادی کر۔وہ پا پیادہ اور ہرقسم کی لِيَشْهَدُوا مَنَافِعَ لَهُمْ وَيَذْكُرُوا تھکی ماندی سواری پر تیرے پاس آئیں گے۔یہ سواریاں اسْمَ اللَّهِ فِي أَيَّامٍ مَّعْلُومَاتٍ عَلَى مَا دور دراز راستوں سے تیرے پاس آئیں گے۔تاوہ رَزَقَهُمْ مِنْ بَهِيْمَةِ الْأَنْعَامِ فَكُلُوا لوگ اپنے نفع بخش مقامات کو دیکھیں اور اللہ تعالٰی کا نام حج کے مقررہ دنوں میں بلند کریں۔ان جانوروں مِنْهَا وَأَطْعِمُوا الْبَائِسَ الْفَقِيرَ ثُمَ پر جو ہم نے ان کو عطاء کئے ہیں۔پس تم ان کے گوشت ليَقْضُوا تَفَشَهُمْ وَلْيُوفُوا نُذُورَهُمْ خُود بھی کھاؤ تنگ دست اور محتاج کوکھلاؤ۔پھر وہ (لوگ) وَلْيَطَّوَفُوا بِالْبَيْتِ الْعَتِيقِ ذَلِكَ میل کچیل دور کریں اور اپنی نذریں پوری کر دیں اور وَمَنْ يُعَظِمْ حُرُمَاتِ اللهِ فَهُوَ خَيْرٌ لَّهُ قدیم ترین بیت اللہ کا طواف کریں۔یہ حکم ہے اور جو اللہ تعالیٰ کے قابل احترام مقامات کی تعظیم کرے گا تو عنْدَ رَبِّهِ (الحج: ۲۷-۳۱) یہ بات اس کے رب کے حضور اس کے لے بہتر ہوگی۔b ق تشریح: عنوان باب میں سورہ حج کی آیت نمبر ۲۷ تا ۳۱ کا حوالہ دیا گیا ہے۔ان آیات میں قربانیوں کے تعلق میں مندرجہ ذیل امور کا ذکر ہے: اول اللہ تعالیٰ کا نام لے کر انہیں ذبح کیا جائے۔دوم قربانی کا گوشت خود بھی کھائیں اور محتاجوں کو بھی کھلائیں۔سوم اپنے بدن سے میل کچیل دور کریں اور بال اور ناخن کٹائیں۔چہارم اپنی نذریں پوری کریں۔پنجم بیت اللہ کا طواف کریں ( جو طواف وداع کے نام سے مشہور ہے۔) یہ پانچ باتیں خلاصہ ہیں؛ مذکورہ بالا آیات کا۔نیز اگلا باب بھی اس کی تشریح میں قائم کیا گیا ہے اور اس میں بتایا گیا ہے کہ کس قسم کی قربانی کا گوشت کھایا جائے اور کس قسم کا نہ کھایا جائے۔(دیکھئے باب نمبر ۱۲۴)