صحیح بخاری (جلد سوم)

Page 391 of 743

صحیح بخاری (جلد سوم) — Page 391

تشریح: البخاری جلد۳ ٢٥ - كتاب الحج يُتَصَدَّقُ بِجُلُودِ الْهَدْي : بعض لوگ کھالوں کی قیمت قصاب کی مزدوری یا جانور کی قیمت میں وضع کر لیتے ہیں۔یہ جائز نہیں۔بعض فقہاء نے جواز کی صورتیں پیدا کی ہیں۔مثلاً قصاب غریب ہو تو پوری مزدوری کے علاوہ اس کو بطور صدقہ یا ہد یہ کھال دے دینا۔(فتح الباری جزء ۳۰ صفحه ۷۰۲ ) مگر احتیاط کا پہلو یہی ہے کہ ایسا صدقہ یا ہد یہ ذبح کرنے کی مزدوری سے خلط ملط نہ کیا جائے۔بعض فقہاء کھال بیچ کر اس کی قیمت صدقہ میں دینا جائز سمجھتے ہیں۔مگر حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ اس فتویٰ کے خلاف ہیں۔قَالَ مَنْ بَاعَ لَهَابَ أَضْحِيَتَهُ فَلَا أَضْحِيَة لَّهُ (عمدة القاري جزء ۰ صفحه ۵۴۵۳) یعنی جس نے اپنی قربانی کی کھال بیچی ، اس کی کوئی قربانی نہیں۔باب ۱۲۲ : يُتَصَدَّقُ بِجِلَالِ الْبُدْنِ قربانی کے اونٹوں کی جھولیں صدقہ میں دی جائیں ۱۷۱۸: حَدَّثَنَا أَبُو نُعَيْمٍ حَدَّثَنَا ۱۷۱۸ ابونعیم نے ہم سے بیان کیا کہ سیف بن ابی سَيْفُ بْنُ أَبِي سُلَيْمَانَ قَالَ سَمِعْتُ سلیمان نے ہمیں بتایا۔انہوں نے کہا: میں نے مجاہد مُجَاهِدًا يَقُوْلُ حَدَّثَنِي ابْنُ أَبِي لَيْلَی سے سنا۔وہ کہتے تھے: ابن ابی لیلی نے مجھ سے بیان کیا أَنَّ عَلِيًّا رَضِيَ اللهُ عَنْهُ حَدَّثَهُ قَالَ که حضرت علی رضی اللہ عنہ نے انہیں بتایا۔انہوں نے کہا: أَهْدَى النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نبی ﷺ نے ایک سو اونٹوں کی قربانی کی۔آپ نے مِائَةَ بَدَنَةٍ فَأَمَرَنِي بِلُحُوْمِهَا فَقَسَمْتُهَا مجھے ان کے گوشت کی نسبت فرمایا اور میں نے اسے تقسیم کر دیا۔پھر آپ نے مجھ سے ان کی جھولوں کے ثُمَّ أَمَرَنِي بِجِلَالِهَا فَقَسَمْتُهَا ثُمَّ لئے فرمایا اور میں نے وہ بھی تقسیم کر دیں۔پھر ان کی بِجُلُوْدِهَا فَقَسَمْتُهَا۔کھالوں سے متعلق فرمایا تو میں نے وہ بھی تقسیم کر دیں۔اطرافه: ۱۷۰۷، ١٧١٦، ۱٧١٦م، ۱۷۱۷، ۲۲۹۹۔تشریح : يُتَصَدَّقُ بِخِلَالِ الْبُدْنِ : اس باب کے عنان اور مندرجہ بالا روایت سے سابقہ باب کے مضمون کی مزید تائید کی گئی ہے۔(اس تعلق میں باب نمبر ۱۳ کی تشریح بھی دیکھئے ) اس سے بھی احتیاط کا پہلو واضح ہے۔