صحیح بخاری (جلد سوم) — Page 390
صحيح البخاری جلد ۳ ۳۹۰ ٢٥ - كتاب الحج اللهُ عَنْهُ قَالَ أَمَرَنِي النَّبِيُّ صَلَّى الله سے روایت کی ۔ انہوں نے کہا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ أَقُوْمَ عَلَى الْبُدْنِ وَلَا نے مجھ سے فرمایا کہ میں قربانی کے اونٹوں کا انتظام أُعْطِيَ عَلَيْهَا شَيْئًا فِي جِزَارَتِهَا ۔ کروں اور قصاب کی مزدوری ان میں سے کچھ نہ دوں ۔ اطرافه: ۱۷۰۷، ۱۷۱۶، ۱۷۱۷، ۱۷۱۸، ۲۲۹۹۔ تشريح : لَا يُعْطَى الْجَزَارُ مِنَ الْهَدْيِ شَيْئًا، جیسا کہ تایا جاچکا ہے کہ ن ابواب میں قربانی کے احکام کی تفصیل ہے۔ عنوان باب سے مراد یہ ہے کہ بطور مزدوری قربانی کا گوشت کھالیں دینا ممنوع ہے؛ نه که مطلق گوشت بغرض استعمال ۔ جیسا کہ مسلم اور ابو داؤد کی روایت کے الفاظ اَنْ لَّا أُعْطِيَ الْجَزَارَ مِنْهَا شَيْئًا ** - سے غلط نہی ہوتی ہے۔ جس کا ازالہ دوسری روایت سے کیا گیا ہے جو سفیان ثوری ہی نے بروایت عبدالکریم بیان کی ہے۔ اس میں لفظ جزَارَتِهَا ہے۔ یعنی ذبح کرنے کی مزدوری میں گوشت وغیرہ نہ دیا جائے ۔ بَاب ۱۲۱ : يُتَصَدَّقُ بِجُلُوْدِ الْهَدْيِ قربانی کی کھالیں صدقہ میں دی جائیں ۱۷۱۷: حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ حَدَّثَنَا ۱۷۱۷ : مسدد نے ہم سے بیان کیا کہ بچی نے ہمیں يَحْيَى عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ قَالَ أَخْبَرَنِي بتایا ۔ انہوں نے ابن جریج سے روایت کی۔ انہوں الْحَسَنُ بْنُ مُسْلِمٍ وَعَبْدُ الْكَرِيمِ نے کہا : حسن بن مسلم اور عبدالکریم جزری نے مجھے خبر الْجَزَرِيُّ أَنَّ مُجَاهِدًا أَخْبَرَهُمَا أَنَّ عَبْدَ دی۔ مجاہد نے ان دونوں کو بتایا۔ عبد الرحمن بن ابی لیلی الرَّحْمَنِ بْنَ أَبِي لَيْلَى أَخْبَرَهُ أَنَّ عَلِيًّا نے ان کو خبر دی کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ نے ان کو رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَخْبَرَهُ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى بتایا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا کہ وہ اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَمَرَهُ أَنْ يَقُوْمَ عَلَی آپ کے قربانی کے اونٹوں کا خیال رکھیں اور اونٹ بُدْنِهِ وَأَنْ يَقْسِمَ بُدْنَهُ كُلَّهَا لُحُوْمَهَا سب کے سب تقسیم کر دیں۔ یعنی ان کے گوشت ان وَجُلُوْدَهَا وَجِلَالَهَا وَلَا يُعْطِيَ فِي کی کھائیں اور ان کی کھولیں اور قصاب کی مزدوری جزَارَتِهَا شَيْئًا۔ میں کوئی چیز نہ دیں۔ اطرافه: ۱۷۰۷، ١٧١٦، ١٧١٦م، ۱۷۱۸، ۲۲۹۹۔ (مسلم، کتاب الحج، باب فى الصدقة بلحوم الهدى) (ابو داؤد، کتاب المناسک، باب کیف تنحر البدن)