صحیح بخاری (جلد سوم)

Page 389 of 743

صحیح بخاری (جلد سوم) — Page 389

البخاری جلد ۳۸۹ ٢٥ - كتاب الحج وَحَجَّةٍ۔یہاں تک کہ جب وہ بیداء کے مقام میں آپ کو لے کر پہنچی تو آپ نے حج اور عمرہ کا لبیک پکارا۔اطرافه : ۱۰۸۹ ، ١٥٤٦، ١٥٤٧، ۱٥٤٨، ۱۰۰۱، ۱۷۱۲، ۱۷۱، ۲۹۵۱، ۲۹۸۶ ٢٠٠ نَحْرُ الْبَدِن قَائِمَةً: احناف کے نزدیک قربانی کا جانور دونوں طرح ہی ذبیح یا نحر کیا جاسکتا ہے۔یعنی کھڑے کر کے یا بٹھا کر ، بر خلاف جمہور کے کہ ان کے نزدیک اونٹ کو کھڑا کر کے تحر کرنا مناسب ہے۔تشریح عمدة القاری جلد، اصفحہ ۵۱) عنوان باب میں جو حوالہ حضرت ابن عباس کے قول کا دیا گیا ہے۔وہ قرآن مجید کے لفظ صواف سے مستنبط ہے۔(عمدۃ القاری جلد، اصفحہ ۵۱) اس حوالے سے امام بخاری کی اپنی رائے کا اظہار ہے۔یعنی قربانی کے اونٹوں کا کھڑے ہونے کی حالت میں نحر کرنا سنت ہے۔مذکورہ بالا دونوں ابواب ( نمبر ۱۱۸ و ۱۱۹) کی روایتیں اس امر کی تائید میں ہیں۔باب ۱۲۰ : لَا يُعْطَى الْجَزَارُ مِنَ الْهَدْيِ شَيْئًا قربانی کی کوئی چیز قصاب کو ( مزدوری میں ) نہ دی جائے ١٧١٦: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ كَثِيْرِ :١٧١٦ محمد بن کثیر نے ہم سے بیان کیا کہ سفیان أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ قَالَ أَخْبَرَنِي ابْنُ أَبِي (ثوری) نے ہمیں خبر دی، کہا: ( عبداللہ ) بن ابی بحیح نَجِيْحٍ عَنْ مُجَاهِدٍ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ نے مجھے خبر دی۔انہوں نے مجاہد سے، انہوں نے ابْنِ أَبِي لَيْلَى عَنْ عَلِيّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ عبد الرحمن بن ابی لیلی سے، عبدالرحمن نے حضرت علی قَالَ بَعَثَنِي النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ انہوں نے کہا: نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے بھیجا تو میں قربانی کے اونٹوں کے فَقُمْتُ عَلَى الْبُدْنِ فَأَمَرَنِي فَقَسَمْتُ پاس کھڑا رہا۔آپ نے مجھ سے فرمایا اور میں نے ان لُحُوْمَهَا ثُمَّ أَمَرَنِي فَقَسَمْتُ حِلَالَهَا کے گوشت تقسیم کر دیئے۔پھر آپ نے مجھے فرمایا تو میں نے ان کی جھولیں اور کھا لیں بھی تقسیم کر دیں۔وَجُلُوْدَهَا۔اطرافه: ۱۷۰۷ ، ۱۷۱۶م، ۱۷۱۷، ۱۷۱۸، ۲۲۹۹ ١٧١٦م: قَالَ سُفْيَانُ وَحَدَّثَنِي ١٦ام: سفیان نے کہا: اور عبدالکریم نے مجھ سے عَبْدُ الْكَرِيم عَنْ مُجَاهِدٍ عَنْ عَبْدِ بیان کیا۔انہوں نے مجاہد سے، مجاہد نے عبد الرحمان الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَيْلَى عَنْ عَلِيَّ رَضِيَ بن ابی لیلیٰ سے، انہوں نے حضرت علی رضی اللہ عنہ ابی