صحیح بخاری (جلد سوم) — Page 387
صحيح البخاری جلد ۳ ۳۸۷ ٢٥ - كتاب الحج باب ۱۱۸ : نَحْرُ الْإِبِلِ مُقَيَّدَةً اونٹوں کو ٹانگیں باندھ کر ذبح کہ کرنا ۱۷۱۳: حَدَّثَنَا عَبْدُ اللهِ بْنُ ۱۷۱۳: عبداللہ بن مسلمہ نے ہم سے بیان کیا کہ مَسْلَمَةَ حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ عَنْ يَزِيد بن زریع نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے یونس سے، یزید يُوْنُسَ عَنْ زِيَادِ بْنِ جُبَيْرٍ قَالَ قَالَ رَأَيْتُ یونس نے زیاد بن ؟ ن جبیر سے روایت کی ۔ انہوں نے کہا ابْنَ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا أَتَى عَلَى کہ میں نے ( حضرت عبداللہ ) بن عمر رضی اللہ عنہا کو دیکھا کہ وہ ایک شخص کے پاس آئے؛ جس نے اپنی رَجُلٍ قَدْ أَنَاخَ بَدَنَتَهُ يَنْحَرُهَا قَالَ قربانی کا اونٹ بٹھایا ہوا تھا کہ اسے ذبح کرے تو ابْعَثْهَا قِيَامًا مُقَيَّدَةً سُنَّةَ مُحَمَّدٍ صَلَّى انہوں نے کہا کہ اسے کھڑا کر کے ٹانگیں باندھ دو۔ اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ۔ وَقَالَ شُعْبَةُ عَنْ حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی یہی سنت ہے۔ اور شعبہ يُوْنُسَ أَخْبَرَنِي زِيَادٌ۔ اونٹ نے یونس سے نقل کیا کہ زیاد نے بھی مجھے یہی خبر دی۔ ا جائے تو اس میں سہولت ہے اور بدکنے کا ڈر نہیں ہے۔ تشریح : نَحْرُ الإِبِلِ مُقَيَّدَ : انت اندر کا رخ کیا جا اس لئے حضرت عبد اللہ بن عمرؓ نے بغیر باندھے اس کا ھے اس کا نحر کرنا مکروہ قرار دیا ۔ نا مکروہ قرار دیا ہے اور یہ سنت کے برخلاف ہے۔ عنوان باب میں لفظ مقيدة کو نمایاں کیا گیا ہے؛ تا باب کے اصل مقصد کی طرف توجہ مبذول کی جائے۔ باب ۱۱۹ : نَحْرُ الْبُدْنِ قَائِمَةً قربانی کے اونٹوں کو کھڑے ہونے کی حالت میں ذبح کرنا وَقَالَ ابْنُ عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا سُنَّةَ اور حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما نے کہا کہ حضرت محمد مُحَمَّدٍ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ۔ وَقَالَ صلى اللہ علیہ وسلم کی سنت ہے۔ (اس کو لازم پکڑو) ابْنُ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا صَوَافَ اور حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما نے کہا کہ سورہ حج میں جو صواف آیا ہے اس کے معنی ہیں کہ کھڑے (الحج: ۳۷) قِيَامًا۔ ہونے کی حالت میں ۔ ١٧١٤ : حَدَّثَنَا سَهْلُ بْنُ بَكَّارٍ ۱۷۱۴ : سہل بن بکار نے ہم سے بیان کیا کہ وہیب حَدَّثَنَا وُهَيْبٌ عَنْ أَيُّوبَ عَنْ أَبِي نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے ایوب سے، ایوب نے