صحیح بخاری (جلد سوم)

Page 386 of 743

صحیح بخاری (جلد سوم) — Page 386

صحيح البخاری جلد ۳ ۳۸۶ ٢٥ - كتاب الحج یعنی میں نے یہاں ذبح کیا ہے اور منی سارے کا سارا ندبی ہے۔ اپنے اپنے ٹھکانوں میں ذبح کر لو۔ اس سے ظاہر ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے کسی خصوصیت کے پیش نظر مشار الیہ جگہ کا انتخاب نہیں فرمایا؛ جس سے یہ سمجھا جائے کہ جہاں آپ نے ذبح کیا سب کو وہاں ذبح کرنا چاہیے۔ حضرت عبداللہ بن عمرؓ کا فعل فرط محبت رسول صلی اللہ علیہ وسلم اور شوق اتباع رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی وجہ سے تھا۔ اس لئے بعض کے نزدیک یہی افضل ہے کہ وہیں قربانی کی جائے۔ اسی طرف اشارہ کرنے کے لئے مذکورہ بالا باب قائم کیا گیا ہے۔ امام مالک اور امام شافعی دونوں نے عمرہ کرنے والے کے لئے مردہ مقام میں اور حاجی کے لئے منی میں قربانی کرنا افضل قرار دیا ہے۔ ( فتح الباری جزء ۳ صفحه ۶۹۷ ) (عمدۃ القاری جزء اصفحہ ۴۸) مقام اول الذکر کا نام حلن مروہ ہے اور ثانی الذکر کا حل منی ۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے عام اجازت دے کر سہولت دی ہے اور تکلیف سے بچایا ہے۔ باب ۱۱۷ : مَنْ نَّحَرَ هَدْيَهُ بِيَدِهِ جس نے اپنی قربانی کا جانور اپنے ہاتھ سے ذبح کیا ۱۷۱۲: حَدَّثَنَا سَهْلُ بْنُ بَكَّارٍ ۱۷۱۲: سہل بن بکار نے ہم سے بیان کیا کہ وہیب حَدَّثَنَا وُهَيْبٌ عَنْ أَيُّوبَ عَنْ أَبِي نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے ایوب سے، انہوں نے قِلَابَةَ عَنْ أَنَسٍ وَذَكَرَ الْحَدِيثَ قَالَ ابوقلابہ سے، ابوقلابہ نے حضرت انس سے روایت کی وَنَحَرَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اور حدیث کا اختصار سے ذکر کیا اور (آخر میں ) کہا: بِيَدِهِ سَبْعَ بُدْنِ قِيَامًا وَضَحَى في صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے ہاتھ سے قربانی کی۔ بِالْمَدِينَةِ كَبْشَيْنِ أَمْلَحَيْنِ أَقْرَنَيْنِ، سات اونٹیاں جبکہ وہ کھڑی تھیں ؛ ذبح کیں اور مدینہ مُخْتَصَرًا۔ میں دو چتکبرے سینگوں والے مینڈھے ذبح کئے ۔ اطرافه : 108۹ ، 1546 ، 1547، 1548 ، 1551، 1714، 1715، ٢951، ٢٩٨٦۔ تشریح : مَنْ نَحْرَ هَدْيَهُ بِيَدِهِ : اس باب کی روایت نمبر ۷۱۲ از رباب ۱ روایت نمبر ۱۷۱ میں فصل مذکور ہے۔ ذبح یا فکر چاہے اپنے ہاتھ سے کرے یا کسی دوسرے سے کروائے، دونوں باتیں جائز ہیں۔ بعض فقہاء نے اپنے ہاتھ سے ذبح کرنا افضل قرار دیا ہے۔ (عمدۃ القاری جزء ۱۰ صفحہ ۵۰) دعا کا موقع ملتا ہے اور طبیعت بھی ایک نیک اثر لیتی ہے۔