صحیح بخاری (جلد سوم) — Page 386
تيح البخاری جلد MAY ٢٥ - كتاب الحج یعنی میں نے یہاں ذبح کیا ہے اور منی سارے کا ساراند بیج ہے۔اپنے اپنے ٹھکانوں میں ذبح کرلو۔اس سے ظاہر ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے کسی خصوصیت کے پیش نظر مشار الیہ جگہ کا انتخاب نہیں فرمایا؛ جس سے یہ سمجھا جائے کہ جہاں آپ نے ذبح کیا سب کو وہاں ذبح کرنا چاہیے۔حضرت عبداللہ بن عمر کا غل فرط محبت رسول صلی اللہ علیہ وسلم اور شوق اتباع رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی وجہ سے تھا۔اس لئے بعض کے نزدیک یہی افضل ہے کہ وہ ہیں قربانی کی جائے۔اسی طرف اشارہ کرنے کے لئے مذکورہ بالا باب قائم کیا گیا ہے۔امام مالک اور امام شافعی دونوں نے عمرہ کرنے والے کے لئے مردہ مقام میں اور حاجی کے لئے منیٰ میں قربانی کرنا افضل قرار دیا ہے۔(فتح الباری جزء ۳۰ صفحہ ۶۹۷) (عمدۃ القاری جزء اصفحه ۴۸) مقام اول الذکر کا نام حل مروہ ہے اور ثانی الذکر کا حال منی۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے عام اجازت دے کر سہولت دی ہے اور تکلیف سے بچایا ہے۔باب ۱۱۷: مَنْ نَّحَرَ هَدْيَهُ بِيَدِهِ جس نے اپنی قربانی کا جانور اپنے ہاتھ سے ذبح کیا ۱۷۱۲: حَدَّثَنَا سَهْلُ بْنُ بَكَارٍ :۱۷۱۲: سہل بن بکار نے ہم سے بیان کیا کہ وہیب حَدَّثَنَا وُهَيْبٌ عَنْ أَيُّوبَ عَنْ أَبِي نے ہمیں بتایا۔انہوں نے ایوب سے، انہوں نے قِلَابَةَ عَنْ أَنَسٍ وَذَكَرَ الْحَدِيْثَ قَالَ ابوقلابہ سے، ابوقلابہ نے حضرت انس سے روایت کی وَنَحَرَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اور حدیث کا اختصار سے ذکر کیا اور (آخر میں ) کہا: بِيَدِهِ سَبْعَ بُدْنِ قِيَامًا وَضَحَى نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے ہاتھ سے قربانی کی۔بِالْمَدِينَةِ كَبْشَيْنِ أَمْلَحَيْنِ أَقْرَنَيْنِ، سات اونٹنیاں جبکہ وہ کھڑی تھیں ؛ ذبح کیں اور مدینہ میں دو چتکبرے سینگوں والے مینڈھے ذبح کئے۔مُخْتَصَرًا۔اطرافه: ۱۰۸۹ ، ١٥٤٦، ١٥٤٧، ١٥٤٨، ۱٥٥١، ۱۷۱، ۱۷۱۵، ۲۹۵۱، ۲۹۸۶ تشریح: مَنْ نَّحَرَ هَدْيَهُ بِيَدِهِ : اس باب کی روایت نمبر۱۷۱۲ زیر باب ۱۱۹ روایت نمبر ۱۷۱۴ میں مفصل مذکور ہے۔ذبح کیا خر چاہے اپنے ہاتھ سے کرے یا کسی دوسرے سے کروائے ؛ دونوں باتیں جائز ہیں۔بعض فقہاء نے اپنے ہاتھ سے ذبح کرنا افضل قرار دیا ہے۔(عمدۃ القاری جزء ۰ ۱ صفحہ ۵۰ ) دعا کا موقع ملتا ہے اور طبیعت بھی نا دیا ۵۰) ایک نیک اثر لیتی ہے۔