صحیح بخاری (جلد سوم)

Page 385 of 743

صحیح بخاری (جلد سوم) — Page 385

صحيح البخاری جلد ۳ ۳۸۵ ٢٥ - كتاب الحج بَاب ١١٦ : النَّحْرُ فِي مَنْحَرِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمِنِّى منی میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی قربانی کے مقام پر قربانی کرنا ۱۷۱۰: حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ ۱۷۱۰: الحق بن ابراہیم نے ہم سے بیان کیا۔ انہوں إِبْرَاهِيمَ سَمِعَ خَالِدَ بْنَ الْحَارِثِ نے خالد بن حارث سے سنا کہ عبید اللہ بن عمر نے حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ عَنْ نَافِعٍ أَنَّ ہمیں بتایا۔ نافع سے مروی ہے کہ حضرت عبداللہ عَبْدَ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ كَانَ يَنْحَرُ فِي ( بن عمر ( رضی اللہ عنہ اسی ( ذبح کرنے کی ) جگہ ذبح الْمَنْحَرِ۔ قَالَ عُبَيْدُ اللَّهِ مَنْحَرِ رَسُوْلِ کیا کرتے تھے ۔ عبید اللہ نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ۔ اطرافه: ۹۸۲، ۱۷۱۱ ، 5551، ٥٥٥٢۔ علیہ وسلم کے ذبح کرنے کی جگہ۔ ۱۷۱۱: حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ ۱۷۱۱: ابراہیم بن منذر نے ہم سے بیان کیا کہ انس الْمُنْذِرِ حَدَّثَنَا أَنَسُ بْنُ عِيَاضٍ حَدَّثَنَا بن عیاض نے ہمیں بتایا۔ موسیٰ بن عقبہ نے ہم سے مُوسَى بْنُ عُقْبَةَ عَنْ نَافِعٍ أَنَّ ابْنَ عُمَرَ بیان کیا۔ نافع سے مروی ہے کہ حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہا صلى الله رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا كَانَ يَبْعَثُ بِهَدْيِهِ اپنی قربانی کا جانور مزدلفہ سے آخری رات منی میں مِنْ جَمْعِ مِنْ آخِرِ اللَّيْلِ حَتَّى يُدْخَلَ بھیجا کرتے تھے۔ یہاں تک کہ وہ نبی ﷺ کے قربانی بِهِ مَنْحَرُ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ کرنے کی جگہ پر اسے لے جاتے؛ حاجیوں کے مَعَ حُجَّاجِ فِيهِمُ الْحُرُّ وَالْمَمْلُوكُ۔ ساتھ ، جن میں آزاد اور غلام بھی ہوتے۔ اطرافه: ۹۸۲ ، ۱۷۱۰، 5551، ٥٥٥٢۔ لى الله ۔ تشريح : النَّحْرُ فِي مَنْحَرِ النَّبِيِّ ال بمعنی: منی کے میدان میں ہرجگہ قربانی کی جاتی ہے۔ جس کی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے ا رت صلی اللہ علیہ وسلم نے اجازت دی ہے۔ آپؐ نے جمرہ ہے۔ آپ نے جمرہ اولی میں مسجد کے قریب گائیں - ذج ذبح کیں۔ میں ۔ ابن ال امین سے مروی ہے ہے کہ کہ ذبح کرنے کے بعد آپ نے فرمایا: ايا : هَذَا الْمَنْحَرُ وَكُلُّ مِنِّي مَنْحَرٌ ۔ به قربان گاہ ہے اور منی کی ہر جگہ ہی قربان گاہ ہے۔ صحیح مسلم کی روایت میں جو حضرت جابرؓ سے مروی ہے؛ یہ الفاظ ہیں: نحرث هَهُنَا وَمِنِّي كُلُّهَا مَنْحَرٌ فَانْحَرُوا فِي رِحَالِكُمْ ۔ (مسلم، كتاب الحج، باب ما جاء ان عرفة كلها موقف)