صحیح بخاری (جلد سوم) — Page 384
البخاری جلد۳ ۳۸۴ ٢٥ - كتاب الحج عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَنْ لَّمْ يَكُنْ مَّعَهُ هَدْيّ إِذَا ساتھ قربانی کا جانور نہیں تھا کہ جب وہ طواف کرے طَافَ وَسَعَى بَيْنَ الصَّفَا وَالْمَرْوَةِ أَنْ اور صفا اور مروہ کے درمیان دوڑے تو وہ احرام کھول يحِلَّ قَالَتْ فَدُخِلَ عَلَيْنَا يَوْمَ النَّحْرِ ڈالے۔حضرت عائشہ نے کہا کہ قربانی کے دن ہمارے بِلَحْمِ بَقَرٍ فَقُلْتُ مَا هَذَا قَالَ نَحَرَ پاس گائے کا گوشت لا یا گیا تو میں نے کہا: یہ گوشت کیسا ہے؟ تو اس نے کہا کہ رسول اللہ ﷺ نے اپنی رَسُوْلُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ ازواج کی طرف سے قربانی کی۔سیمی نے کہا: میں أَزْوَاجِهِ۔قَالَ يَحْيَى فَذَكَرْتُهُ لِلْقَاسِمِ نے قاسم سے اس بات کا ذکر کیا تو انہوں نے کہا کہ فَقَالَ أَتَتْكَ بِالْحَدِيْثِ عَلَى وَجْهِهِ۔عمرہ نے یہ حدیث آپ سے ٹھیک ٹھیک بیان کی ہے۔اطرافه ،۲۹٤، ۳۰۵، ۳۱۶، ۳۱۷، ۳۱۹، ۳۲۸، ۱٥١٦، ١٥۱۸، ١٥٥٦، ١٥٦٠، ،۱۷۷۱ ،۱۷۶۲ ،۱۷۰۷،۸ ،۱۷۳۳ ،۱۷۲۰ ،۱٦٥۰ ،۱۶۳۸ ،١٥٦١، ١٥٦٢ ،4401 ،4395۵ ،۲۹۸۴ ،۲۹۵۲ ،۱۷۸۸ ،۱۷۸۷ ،۱۷۸۶ ،۱۷۸۳ ،۱۷۷۲ ۷۲۲۹ ،٤٤٠٨ ٥٣٢٩، ٥٥٤٨ ٥٥٥٩ ٦١٥٧ تشریح : ذَبْحُ الرَّجُلِ الْبَقَرَ عَنْ نِسَائِهِ مِنْ غَيْرِ أَمْرِهِنَّ : فقہاء نے اونٹ کے لئے تراور باقی قربانی کے جانوروں کے لئے ذبح مسنون قرار دیا ہے۔نحر کے معنی ہیں برچھی سے شاہ رگ کاٹ دیا اور ذبح کہتے ہیں چھری سے شاہ رگ کاٹنے کو۔روایت نمبر ۷۰۹ میں گائے کے لئے جو لفظ نَحَر وارد ہوا ہے۔اس کی تشریح عنوان میں لفظ ذبح سے کی گئی ہے۔کیونکہ دونوں لفظ مترادف ہیں۔لیکن صورت و شکل کی تعیین موقع محل کے قرینہ سے ہوسکتی ہے۔بعض علماء کو مترادف الفاظ سے غلطی ہوگئی ہے کہ گائے بھی اونٹ کی طرح نحر کی جائے۔بحالیکہ قرآن مجید میں اَنْ تَذْبَحُوا بَقَرَةً۔(البقرة : ۲۸ ) کا ارشاد موجود ہے۔(فتح الباری جز ۳۰ صفحہ ۶۹۵) لَا نُرَى إِلَّا الْحَجَّ عرب زمانہ جاہلیت میں حج کے وقت عمرہ یا قران کو گناہ سمجھتے تھے۔(دیکھئے روایت نمبر ۱۵۶۴ ۱۶۵۱) آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے اعلان فرمانے پر بعض صحابہ نے عمرہ کیا اور بعض نے قران اور بعض نے افراد۔جس حج کا یہاں ذکر ہے وہ حجتہ الوداع ہے جو اھ میں ہوا۔اس موقع پر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف سے گائے کی قربانی کی گئی تھی۔