صحیح بخاری (جلد سوم) — Page 24
صحيح البخاري - جلد۳ عَنْ دِيْنٍ حَتَّى أَلْقَى اللَّهَ ۲۴ ٢٤- كتاب الزكاة اور نہ دین سے سے متعلق فتوی دریافت کروں گا۔یہاں تک کہ اللہ سے جاملوں۔اطرافه ۱۲۳۷، ۲۳۸۸، ۳۲۲۲، ٥۸۲۷، ٦٢٦٨ ٦٤٤٣، ٦٤٤٤، ٠٧٤٨٧ تشریح مَا أُذِى زَكَاتُهُ فَلَيْسَ بِكَنرٍ : حضرت ابوذ وغیرہ جیسے زاہدین نے یہ فتوی دیا تھا کہ ہر مال جو کھانے پینے پہنے وغیرہ حاجات ضروریہ سے بیچ رہے، کنز یعنی جمع شدہ مال کہلائے گا اور ایسا مال آیت وَالَّذِينَ يَكْبِرُونَ الذَّهَبَ وَالْفِضَّة (التوبة :۳۴) کی رو سے موجب عذاب ہوگا۔جمہور صحابہ کرام ان کے اس فتویٰ کے خلاف تھے۔جب نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ تعین فرما دی کہ پانچ اوقیہ چاندی پانچ اونٹ یا پانچ وسق کھجور سے زائد مال اگر ہو تو اس پر زکوۃ واجب ہوگی۔اس لئے ادائیگی زکوۃ کے بعد بچا ہوا مال کنز کی تعریف سے باہر ہوگا اور اس پابندی کی وجہ سے صاحب مال نفع بخش کاروبار تجارت یا صنعت و حرفت میں اسے لگانے پر مجبور ہوگا۔ورنہ اس کا سارا مال رفتہ رفتہ ختم ہو جائے گا۔بدوی نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے دریافت کیا: هَلْ عَلَيَّ غَيْرُهَا؟ کیا اس کے علاوہ مجھ پر کوئی اور بھی ذمہ داری عائد ہوتی ہے۔فرمایا: نہیں۔(روایت نمبر ۴۶) عنوانِ باب ایک مشہور اختلاف کی وجہ سے قائم کیا گیا ہے۔بعض فقہاء نے ادا ئیگی زکوۃ کے بعد بھی مال کو جمع رکھنا مطلق حرام قرار دیا ہے جو درست نہیں۔ورنہ اس مال پر بھی ادائیگی زکوۃ جاری رہتی۔اسی بات کی طرف توجہ منعطف کرانے کی غرض سے یہ باب قائم کیا گیا ہے۔روایت نمبر ۱۴۰۵ میں جن ذرائع پیداوار پر نصاب زکوۃ کا ذکر کیا گیا ہے وہ مجمل اور اصولی ہے۔تفصیل کیلئے دیکھئے: (۱) باب ۳۱ سے باب ۶۲ تک : نقدی کا نصاب زکوۃ پانچ اوقیہ (200 درہم یا ساڑھے باون تولہ چاندی جس کی قیمت رائج الوقت سکے کے مطابق ہوگی۔اس سے کم مال پر زکوۃ نہیں۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں اور اب تک بھی مبادلہ اشیاء کا معیار چاندی کے سکے پر رہا ہے۔چاندی کے نصاب پر سونے کا نصاب مبنی ہے۔یعنی جتنی قیمت کسی وقت پانچ اوقیہ چاندی کی ہوگی ؛ اسی قیمت سے جتنا سونا خریدا جاسکتا ہے۔اس مقدار سے زائد سونا ہوتو وہ قابل زکوۃ ہوگا۔(۲) باب ۳۶ تا باب ۴۳: ہر مویشی کا نصاب علیحدہ ہے۔مثلاً اونٹوں کا نصاب پانچ ہے۔ان پر زکوۃ نہیں اس سے زیادہ ہوں تو وہ قابل زکوۃ ہوں گے۔(۳) باب ۵۴ تا باب ۵۸: زرعی پیدا وار غلہ جات اور قابل ذخیرہ پھلوں کا نصاب ۵ وسق ہے۔یعنی 2/3 ٹن بمطابق اندازہ حجاز اور ایک ٹن بمطابق اندازہ عراق وسق ۶۰ صاع اور ایک صاع قریباً ایک پونڈ یا پونے تین پاؤ تقریبا۔پانچ وسق ( ایک ٹن یا چھبیس من دس سیر ) غلہ ہو تو اس پر ز کو پہیں اور اس سے زیادہ پر مقررہ ونسبت سے عائد ہوگی۔فَلَمْ يُوْدِ زَكَاتَهَا : اگر مال جمع کرنا مطلق حرام ہوتا تو زکوۃ کا حکم عبث تھا۔اسی بات کی طرف توجہ دلانے کی غرض سے حضرت ابن عمر کے قول کا حوالہ دیا گیا ہے۔(روایت نمبر ۱۴۰۴) جملہ قبلَ أَنْ تُنَزَّلَ الزَّكَاةُ سے نصاب زکوة اور متعلقہ احکام کا بیان مراد ہے۔(فتح الباری جزء ۳۰ صفحه ۳۴۵) روایت نمبر ۶ ۱۴۰ میں ایک ابہام ہے جس کی وضاحت