صحیح بخاری (جلد سوم) — Page 383
صحيح البخاری جلد ۳ ۳۸۳ ٢٥ - كتاب الحج الْحَجِّ وَالْعُمْرَةِ بِطَوَافِهِ الْأَوَّلِ ثُمَّ قَالَ نے سر منڈایا اور قربانی کا جانور ذبح کیا اور سمجھے کہ وہ كَذَلِكَ صَنَعَ النَّبِيُّ ۔ پہلے طواف ہی کے ساتھ حج اور عمرہ دونوں کا طواف کر چکے ہیں۔ پھر کہا: اسی طرح نبی ﷺ نے بھی کیا تھا۔ صلى الله عروسة اطرافه: 16٣٩، 1640 ، 1693 ، 1806 ، 1807، ۱۸۰۸، ۱۸۱۰، ۱۸۱۲، ۱۸۱۳، ٤١٨٣، ٤١٨٤، ٤١٨٥ تشريح : مَنِ اشْتَرَى هَدْيَهُ مِنَ الطَّرِيقِ وَقَلَّدَهَا : اس باب کے تعلق میں باب نمبر۱۰۵ کاعنوان بھی دیکھئے۔ دونوں ایک سے ہیں۔ سوائے اس کے کہ باب کے اس عنوان میں الفاظ وَقَلَّدَهَا وَقَلَّدَهَا زائد ہیں ۔ جس سے ان لوگو ان لوگوں کا رد مقصود ہے جو تقلید وغیرہ علامتوں کے جو تقلید وغیرہ علامتوں کو ضروری نہیں سمجھتے۔ حج کی قربانی کو شعائر اللہ قرار دیا گیا ہے۔ یعنی اللہ کے نشانات۔ اس لئے کوئی نہ کوئی ظاہری علامت ہونی چاہیے جس سے ان کی شناخت ہو اور وہ قابل تعظیم سمجھی جائیں۔ عَامَ حَجَّةِ الْحَرُورِيَّةِ : خارجی لوگوں کو جنہوں نے ائمہ حق کے سامنے خروج کیا، حروری کہا جاتا ہے۔ کیونکہ حروراء مقام ان کا مرکز تھا جو عراق اور شام کی سرحد پر واقع ہے۔ روایت محولہ بالا میں حجاج بن یوسف کے اس حملہ کا ذکر ہے جو بنی امیہ کی طرف سے حضرت عبداللہ بن زبیر کے خلاف ہوا تھا ؟ جب انہوں نے اپنی خلافت کا اعلان کیا تھا۔ یہ حملہ سے میں ہوا۔ خارجیوں نے جب 12ھ میں حج کیا تو اس وقت تک حضرت عبداللہ بن زبیر نے خلافت کا اعلان نہیں کیا تھا۔ ( فتح الباری جزء ۳ صفحہ ۶۹۵) اس روایت کی مزید وضاحت کے لیے کتاب المحصور دیکھئے۔ بَاب ١١٥ : ذَبْحُ الرَّجُلِ الْبَقَرَ عَنْ نِسَائِهِ مِنْ غَيْرِ أَمْرِهِنَّ نر اپنی عورتوں کی طرف سے بغیر ان کے کہنے کے مرد کا گائے ذبح کرنا ۱۷۰۹ : حَدَّثَنَا عَبْدُ اللهِ بْنُ ۱۷۰۹: عبداللہ بن یوسف نے ہم سے بیان کیا کہ يُوْسُفَ أَخْبَرَنَا مَالِكٌ عَنْ يَحْيَى بْنِ مالک نے ہمیں خبر دی۔ انہوں نے یحی بن سعید سے، سَعِيدٍ عَنْ عَمْرَةَ بِنْتِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ انہوں نے عمرہ بنت عبدالرحمن سے روایت کی ۔ عمرہ قَالَتْ سَمِعْتُ عَائِشَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا نے کہا کہ میں نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے تَقُوْلُ خَرَجْنَا مَعَ رَسُوْلِ اللهِ صَلَّى اللهُ سنا۔ وہ کہتی تھیں : رسول اللہ ﷺ کے ساتھ ہم مدینہ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِخَمْسِ بَقِيْنَ مِنْ ذِي سے نکلے؛ جبکہ ابھی ذی القعدہ کے پانچ دن باقی الْقَعْدَةِ لَا نُرَى إِلَّا الْحَجَّ فَلَمَّا دَنَوْنَا تھے ۔ ہم یہی سمجھتے تھے کہ حج ہوگا۔ جب مکہ کے قریب مِنْ مَّكَّةَ أَمَرَ رَسُوْلُ اللهِ صَلَّى اللهُ پہنچے تو رسول اللہ ﷺ نے اس سے فرمایا جس کے الله