صحیح بخاری (جلد سوم) — Page 381
صحيح البخاری جلد ۳ ۳۸۱ ٢٥ - كتاب الحج بَاب ۱۱۳ : الْجِلَالُ لِلْبُدْنِ قربانی کے جانوروں کی جھولیں وَكَانَ ابْنُ عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا لَا حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما جھولوں کو صرف کو ہان کی يَشُقُّ مِنَ الْجِلَالِ إِلَّا مَوْضِعَ السَّنَامِ جگہ سے پھاڑتے تھے اور جب اونٹ ذبح کرتے تو وَإِذَا نَحَرَهَا نَزَعَ جِلَالَهَا مَخَافَةَ أَنْ وہ جھول اُتار لیتے ؟ اس ڈر سے کہ خون انہیں خراب نہ يُفْسِدَهَا الدَّمُ ثُمَّ يَتَصَدَّقُ بِهَا ۔ کر دے۔ پھر ان جھولوں کو صدقہ میں دے دیتے ۔ ۱۷۰۷: حَدَّثَنَا قَبِيْصَةُ حَدَّثَنَا ۱۷۰۷: قبیصہ نے ہم سے بیان کیا کہ سفیان سُفْيَانُ عَنِ ابْنِ أَبِي نَجِيحٍ عَنْ (ثوری) نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے ابن ابی نجیح سے، مُجَاهِدٍ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي انہوں نے مجاہد سے، مجاہد نے عبدالرحمن بن ابی لیلی لَيْلَى عَنْ عَلِيّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ سے ، عبد الرحمن نے حضرت علی رضی اللہ عنہ سے روایت أَمَرَنِي رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ کی کہ انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے وَسَلَّمَ أَنْ أَتَصَدَّقَ بِجِلَالِ الْبُدْنِ الَّتِي مجھ سے فرمایا کہ میں جن قربانی کے اونٹوں کو ذبح کروں، نَحَرْتُ وَبِجُلُوْدِهَا ۔ ان کی جھولیں اور کھا لیں صدقہ میں دے دوں ۔ اطرافه: 17١٦، 1716م، ۱۷17، ۱۷۱۸، ۲۲۹۹۔ تشريح : الجَلالُ لِلْبُدْنِ : عنوان باب میں حضرت عبداللہ بن عمر ے جس قول کا حال نقل کیا۔ ا ہے ؟ اس مفہوم کی بعض روایات موطا امام مالک میں مروی ہیں ۔ (مؤطا امام مالک، کتاب الحج، باب العمل في الهدى حين يساق) وَمَنْ يُعَظِمُ شَعَائِرَ اللهِ (الحج: (۳۳) کے ارشاد کے تعلق میں سابقہ ابواب کی مناسبت میں یہ باب بھی قائم کیا گیا ہے۔ جس سے یہ بتانا مقصود ہے کہ صحابہ کرام بھی قربانی کے اونٹوں پر جھول وغیرہ ڈال کر انہیں آراستہ کرتے۔ یہی غرض نمایاں کرنے کے لئے امام مالک کی روایتوں کی طرف اشارہ کیا ہے۔ جن میں حضرت ابن عمرؓ کے قبطی مصنوعات کی کتانی نئی چادریں ان پر ڈالنے کا ذکر ہے۔ (فتح الباری جزء ۳ صفحہ ۲۹۴) اس تعلق میں با ۱۲ کی تشریح بھی دیکھئے۔ لَا يَشُقُّ مِنَ الْجِلَالِ إِلَّا مَوْضِعَ السَّنَامِ صرف کو ہان کی جگہ ہی چاک کی جاتی ۔ تا کو ہان پر جو نشان لگایا گیا ہے وہ ظاہر ہو جائے۔