صحیح بخاری (جلد سوم) — Page 380
البخاری جلد۳ ٣٨٠ ٢٥ - كتاب الحج يَسُوقُ بَدَنَةً قَالَ ارْكَيْهَا قَالَ إِنَّهَا بَدَنَةٌ وہ قربانی کا اونٹ ہانکے لئے جا رہا ہے، فرمایا: اس پر قَالَ ارْكَبْهَا قَالَ فَلَقَدْ رَأَيْتُهُ رَاكِبَهَا سوار ہو جا۔اس نے کہا: یہ قربانی کا اونٹ ہے۔آپ يُسَايِرُ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نے فرمایا: اس پر سوار ہو جا۔حضرت ابو ہریرۃ نے کہا وَالنَّعْلُ فِي عُنُقِهَا۔تَابَعَهُ مُحَمَّدُ بْنُ کہ میں نے دیکھا کہ وہ اس پر سوار ہے اور نبی علی کے ساتھ ساتھ چل رہا ہے اور جوتی اس جانور کے بَشَّارٍ۔صلى الله گلے میں بطور نشان لٹک رہی ہے۔محمد بن بشار نے بھی انہی کی طرح یہ بات نقل کی ہے۔حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ عُمَرَ أَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ عثمان بن عمر نے ہم سے بیان کیا کہ علی بن الْمُبَارَكِ عَنْ يَحْيَى عَنْ عِكْرِمَةَ عَنْ مبارک نے ہمیں خبر دی۔انہوں نے سجی سے ، انہوں نے عکرمہ سے عکرمہ نے حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ۔اطرافه ١٦٨٩، ٢٧٥٥، ٦١٦٠۔سے، حضرت ابو ہریرہ نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی۔ت: ٤٠٠ اَلْقَلائِدُ مِنَ الْعِهْنِ وَتَقْلِيدُ النَّعْل : ان ابواب میں مطلق ہار ڈالنے کی طرف توجہ دلائی گئی تشریح: ہے۔نشان کوئی بھی ہوقربانی کی شناخت کے لئے کافی ہوتا ہے۔خواہ اون یا کسی اور شئے کا ہو۔زمانہ جاہلیت میں عرب قربانی کے گلے میں جوتی بطور نشانی لٹکا دیتے تھے۔جوتی لٹکانے سے اس طرف اشارہ تھا کہ مالک اپنی سواری کے جانور سے حج کی خاطر بر ہنہ پا ہو گیا ہے۔(عمدۃ القاری جلد، اصفحہ ۴۳) روایت زیر باب ۱۱۲ سے ظاہر ہے کہ اشعار ضروری نہیں۔کیونکہ اونٹ کے گلے میں جوتی لٹکتے دیکھ کر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اس پر اعتراض نہیں فرمایا اور بدوی کو اشعار کا حکم نہیں دیا۔صرف اس کے پیدل چلنے کو نا پسند فرمایا۔تَابَعَهُ مُحَمَّدُ بنُ بَشَّارٍ : روایت نمبر ۱۷۰۶ کے آخر میں محمد بن بشار کی روایت کا جو حوالہ دیا ہے۔اس کی وجہ یہ ہے کہ معمر کی روایت کے بارہ میں علماء کو شبہ ہوا ہے کہ بھر یوں کی روایت ہے۔اس لئے صحت روایت کی طرف ایک دوسری سند سے اشارہ کیا ہے۔(فتح الباری جز ۳۰ صفحہ ۶۹۳)