صحیح بخاری (جلد سوم)

Page 379 of 743

صحیح بخاری (جلد سوم) — Page 379

البخاری جلد ٣٧٩ ٢٥ - كتاب الحج کے عنوان میں البدن وَالْبَقَر کے الفاظ نمایاں کئے گئے ہیں۔(عمدۃ القاری جزء ۹ صفحہ ۴۱ ۴۲) روایت نمبر ۱۷۰۲ میں بکریوں کو ہار ڈالنے کا جو ذکر آیا ہے اس سے بھی باب ۱۰۶ کے مضمون کی تائید ہوتی ہے۔قربانی کے اونٹوں پر علاوہ تقلید کے جھولیں بھی ڈالی جاتی تھیں، تا کوئی ان سے تعرض نہ کرے۔حج کے راستہ میں طے خشم وغیرہ قبائل تھے ؛ جن کا گزارہ لوٹ مار پر تھا۔ہاروں اور جھولوں سے وہ سمجھ لیتے تھے کہ یہ قربانی کے اونٹ ہیں اور ان سے تعرض نہ کرتے۔یہ ہار بھیڑ بکریوں کے گلے میں بھی ڈالے جاتے۔اسلام نے اس قدیم رسم کو بوجہ مفید ہونے کے قائم رکھا۔حضرت عائشہ کا یہ کہنا کہ میں ان کے ہارا اپنے ہاتھ سے بنتی تھی۔یہ بتایا جا چکا ہے کہ مس اپنے لئے ایام حج میں سینے وغیرہ کا کام جائز نہ سمجھتے تھے۔(دیکھئے تشریح باب ۹۱) D بَابِ ۱۱۱ : الْقَلَائِدُ مِنَ الْعِهْنِ اون کے ہار ۱۷۰۵: حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ عَلِي حَدَّثَنَا مُعَاذُ بْنُ مُعَاذٍ حَدَّثَنَا ابْنُ عَوْنٍ معاذ نے ہمیں بتایا۔ابن عون نے ہم سے بیان کیا۔الْقَاسِمِ عَنْ أُمّ الْمُؤْمِنِيْنَ رَضِيَ انہوں نے قاسم ( بن محمد ) سے، انہوں نے حضرت الله عَنْهَا قَالَتْ فَتَلْتُ قَلَائِدَهَا من ام المومنین رضی اللہ عنہا سے روایت کی کہ انہوں نے کہا: میں نے جانوروں کے ہار اون سے بٹے جو علي ۱۷۰۵: عمرو بن علی نے ہم سے بیان کیا۔معاذ بن عن عِهْنِ كَانَ عِنْدِي۔میرے پاس تھی۔اطرافه ١٦٩٦، ١٦٩٨، ۱٦٩٩ ، ۱۷۰۰، ۱۷۰۱، ۱۷۰۲، ۱۷۰۳، ۱۷۰۱، ٢۳۱۷، ٠٥٥٦٦ بَابِ ۱۱۲ : تَقْلِيْدُ النَّعْلِ جوتی کا ہار ١٧٠٦ : حَدَّثَنَا مُحَمَّدٌ أَخْبَرَنَا عَبْدُ :١٧٠٦ محمد بن سلام) نے ہم سے بیان کیا کہ الْأَعْلَى بْنُ عَبْدِ الْأَعْلَى عَنْ مَعْمَرٍ عَنْ عبدالاعلیٰ بن عبدالاعلیٰ نے ہمیں خبر دی۔انہوں نے يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ عَنْ عِكْرِمَةَ عَنْ معمرے، معمر نے کئی بن ابی کثیر سے بچی نے عکرمہ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ أَنَّ نَبِيُّ اللهِ سے عکرمہ نے حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَأَى رَجُلًا روایت کی کہ نبی اللہ ﷺ نے ایک شخص کو دیکھ کر کہ