صحیح بخاری (جلد سوم) — Page 377
صحيح البخاری جلد ۳ ۳۷۷ ٢٥ - كتاب الحج بِيَدَيَّ ثُمَّ قَلَّدَهَا رَسُوْلُ اللهِ صَلَّى الله جانوروں کے ہارا اپنے ہاتھ سے بنائے۔ پھر رسول اللہ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِيَدَيْهِ ثُمَّ بَعَثَ بِهَا مَعَ صلى اللہ علیہ وسلم نے اپنے ہاتھوں سے وہ ہار پہنائے۔ أَبِي فَلَمْ يَحْرُمْ عَلَى رَسُوْلِ اللهِ صَلَّى پھر میرے باپ کے ساتھ وہ جانور بیچ دیے اور اس بھیج اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ شَيْءٌ أَحَلَّهُ اللَّهُ لَهُ کے بعد رسول اللہ صل اللہ علیہ وسلم کے لئے کوئی ایسی بات ممنوع نہ ہوئی جو اللہ تعالیٰ نے آپ کے لئے حلال حَتَّى نُحِرَ الْهَدْي۔ کی ہو۔ یہاں تک کہ قربانی کے جانور ذبح کئے گئے ۔ إطرافه: ١٦٩٦ ، 1698 ، 1699 ، ۱۷۰۱، ۱۷۰۲، ۱۷۰۳ ، ۱۷۰۷، ۱۷۰۵، ٢٣١٧، ٥٥٦٦۔ تشريح : مَنْ قَلَّدَ الْقَلَائِدَ بِيَدِهِ : جہور کا ذہب یہ ہے کہ بی اشعار و الی سے کوئی مر نہیں بن جاتا جب تک حج یا عمرہ کی نیت نہ کرے۔ حضرت ابن عباس کا فتوٹی اس کے خلاف تھا۔ مگر حضرت عائشہ پہلی وہ خاتون ہیں جنہوں نے یہ غلط فہمی دور کی اور علماء نے ان کا فتوی قبول کیا اور پھر ان کی اتباع کی گئی۔ ( فتح الباری جزء ۳۰ صفحه ۶۹۰) یہی اختلاف واضح کرنے کی غرض سے مذکورہ بالا باب قائم کیا گیا ہے اور عنوان باب میں حضرت عائشہ کی روایت کا اشارہ کیا گیا اور اسی پر آج کل عملدرآمد ہے۔ عنوان باب میں بیدِہ کے الفاظ سے اس طرف اشارہ ہے کہ کسی دوسرے سے ہار ڈلوانے کی جگہ خود ہار ڈالا جائے۔ بَاب ۱۱۰ : تَقْلِيْدُ الْغَنَمِ بکریوں کو ہار پہنانا ۱۷۰۱ : حَدَّثَنَا أَبُو نُعَيْمٍ حَدَّثَنَا ۱۷۰۱: ابونعیم نے ہم سے بیان کیا کہ اعمش نے الْأَعْمَشُ عَنْ إِبْرَاهِيمَ عَنِ الْأَسْوَدِ ہمیں بتایا۔ انہوں نے ابراہیم (نخعی) سے، انہوں عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا قَالَتْ نے اسود سے ، اسود نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا أَهْدَى النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سے روایت کی کہ انہوں نے کہا: نبی صلی اللہ علیہ وسلم مَرَّةً غَنَمًا ۔ نے ایک دفعہ قربانی کے لئے بکریاں بھیجیں۔ إطرافه: ١٦٩٦ ، ۱۹۹۸ ، ۱۹۹۹ ، ۱۷۰۰، ۱۷۰۲، ۱۷۰۳ ، ۱۷۰۴ ، ۱۷۰۵ ، ٢٣١٧، ٥٥٦٦ ۱۷۰۲ : حَدَّثَنَا أَبُو النُّعْمَانِ حَدَّثَنَا ۱۷۰۲: ابو نعمان نے ہم سے بیان کیا کہ عبدالواحد عَبْدُ الْوَاحِدِ حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ حَدَّثَنَا نے ہمیں بتایا کہ اعمش نے ہم سے بیان کیا، (کہا: ) إِبْرَاهِيمُ عَنِ الْأَسْوَدِ عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ ابراہیم نخعی ) نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے اسود سے،