صحیح بخاری (جلد سوم) — Page 376
البخاری جلد كَانَ لَهُ حِلٌ۔٢٥ - كتاب الحج طرف بھیج دیا اور خود مدینہ میں ٹھہرے اور آپ پر کوئی بات ممنوع نہ ہوئی جو آپ کے لیے حلال ہو۔اطرافه: ۱٦٩٦، ۱۶۹۸، ۱۷۰۰، ۱۷۰۱، ۱۷۰۲، ۱۷۰۳، ۱۷۰، ۱۷۰۰، ۲۳۱۷، ٠٥٥٦٦ تشریح : اِشْعَارُ الْبُدْن: عنوانِ باب میں حضرت مسور رضی اللہ عنہ کی جس روایت کا حوالہ دیا گیا ہے وہ نمبر ۱۶۹۴-۱۶۹۵ میں ہے۔حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کی روایت نمبر ۱۶۹۶ میں بھی گذر چکی ہے۔بعض شارحین کا خیال ہے کہ عنوانِ باب میں اونٹوں کے اشعار کا الگ ذکر اس لئے ہے کہ جمہور علماء کے فتویٰ کے خلاف ایک قول امام ابوحنیفہ کی طرف منسوب کیا گیا ہے۔جس سے پایا جاتا ہے کہ اشعار و تقلید احتیاطی تدبیر ہے۔مناسک حج میں سے نہیں۔چاہے کوئی اشعار و تقلید کرے یا نہ کرے۔(فتح الباری جز ۳۶ صفحہ ۶۸۸،۶۸۷) باب ۱۰۹: مَنْ قَلَّدَ الْقَلَائِدَ بِيَدِهِ جس نے اپنے ہاتھ سے ہار پہنائے ۱۷۰۰: حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ ۱۷۰۰ عبد الله بن یوسف نے ہم سے بیان کیا کہ يُوْسُفَ أَخْبَرَنَا مَالِكٌ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مالک نے ہمیں بتایا۔انہوں نے عبد اللہ بن ابی بکر أَبِي بَكْرِ بْنِ عَمْرِو بْنِ حَزْمٍ عَنْ عَمْرَةَ بن عمرو بن حزم سے، انہوں نے عمرہ بنت عبدالرحمن بِنْتِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ أَنَّهَا أَخْبَرَتْهُ أَنَّ سے روایت کی۔انہوں نے اُن کو بتایا کہ زیاد بن ابی زِيَادَ بْنَ أَبِي سُفْيَانَ كَتَبَ إِلَى عَائِشَةَ سفیان نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کو لکھا کہ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا إِنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَبَّاسٍ حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے کہا ہے: رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا قَالَ مَنْ أَهْدَى هَدْيًا جس نے قربانی کا جانور بھیج دیا؟ اس پر تمام وہ باتیں حَرُمَ عَلَيْهِ مَا يَحْرُمُ عَلَى الْحَاجَ حَتَّى ممنوع ہو جاتی ہیں جو ہر حاجی کے لئے ممنوع ہیں۔يُنْحَرَ هَدْيُهُ۔قَالَتْ عَمْرَةُ فَقَالَتْ یہاں تک کہ اس کی قربانی کا جانور ذبح کیا جائے۔عَائِشَةُ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا لَيْسَ كَمَا قَالَ عمرہ نے کہا: حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے جواب دیا ابْنُ عَبَّاسٍ أَنَا فَتَلْتُ قَلَائِدَ هَدْيِ کہ ایسا نہیں ہے جیسے ابن عباس نے کہا ہے۔رَسُوْلِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی قربانی والے