صحیح بخاری (جلد سوم)

Page 374 of 743

صحیح بخاری (جلد سوم) — Page 374

البخاری جلد ۳۷۴ ٢٥- كتاب الحج مسلمانوں نے مل جل کر حج کیا۔مشرکین نے اپنے طریقے پر اور مسلمانوں نے اپنے طریق پر اور ان میں کچھ ایسے بھی تھے جو ننگے حج کر رہے تھے۔حالات اس وقت اچھی طرح سے سدھرے نہیں تھے۔اسی موقع پر وہ مشہور اعلان بھی ہوا جس کا ذکر سورہ تو بہ میں ہے۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم مدینہ میں ہی رہے اور وہیں سے اپنی اپنی قربانی کے جانور حضرت ابوبکر کے ساتھ بھیج دیئے تھے اور آپ نے احرام نہیں باندھا تھا۔اس سے دونوں باتوں کا رڈ ہوتا ہے۔روایت نمبر ۱۹۹۴، ۱۶۹۵ میں عمرے کا اختصار سے ذکر ہے۔یہ صلح حدیبیہ والا عمرہ ہے جس کے لئے ہجرت کے چھٹے سال چودہ سو صحابہ کرام کے ساتھ سفر کیا تھا اور آپ اپنے ساتھ ستر کے قریب قربانی کے اونٹ لے گئے تھے کہ آپ اور آپ کے صحابہ کرام کی طرف سے قربانی کی جائے۔(عمدۃ القاری جزء اصفحہ ۳۷) اس واقعہ سے امام موصوف نے یہ استنباط کیا ہے کہ میقات سے قربانی کے جانوروں پر نشان لگایا جائے اور اس کے بعد احرام باندھا جائے۔مگر روایت نمبر ۱۶۹۶ میں اشعار و تقلید کا جو ذکر ہے اس سے اس کے خلاف بھی ثابت ہوتا ہے۔اس بناء پر فقہاء نے مختلف آراء قائم کی ہیں۔در حقیقت اس مسئلہ میں وسعت ہے اور اسی لئے باب کا عنوان مسن سے قائم کر کے اسے مطلق رکھا ہے۔روایت نمبر ۶۹۶ اسے ظاہر ہے کہ قربانی کے جانور دونوں صورتوں میں بھیجے جاسکتے ہیں ، حج وغیرہ کی حالت میں بھی اور ان کے بغیر بھی۔کیونکہ مشار الیہ سفر حج میں آنحضرت ﷺ مدینہ میں ہی رہے تھے۔حج کے لئے تشریف نہیں لے گئے۔بَاب ۱۰۷: فَتْلُ الْقَلَائِدِ لِلْبُدْنِ وَالْبَقَرِ قربانی کے اونٹوں اور گائیوں کے لئے ہار بٹنا ١٦٩٧: حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ حَدَّثَنَا :۱۶۹۷ مدد نے ہم سے بیان کیا کہ بچی نے ہمیں يَحْيَى عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ قَالَ أَخْبَرَنِي نَافِعٌ بتایا۔عبید اللہ سے روایت ہے کہ انہوں نے کہا: نافع عَنِ ابْنِ عُمَرَ عَنْ حَفْصَةَ رَضِيَ اللہ نے مجھے خبر دی۔انہوں نے حضرت ابن عمرؓ سے، حضرت قَالَتْ قُلْتُ يَا رَسُوْلَ اللهِ مَا ابن عمر نے حضرت حفصہ رضی اللہ عنہم سے روایت کی۔انہوں نے کہا: میں نے عرض کی۔یا رسول اللہ ! لوگوں شَأْنُ النَّاسِ حَلُّوْا وَلَمْ تَحْلِلْ أَنْتَ قَالَ کا یہ کیا حال ہے کہ انہوں نے احرام کھول دیئے ہیں۔إِنِّي لَبَّدْتُ رَأْسِي وَقَلَّدْتُ هَدْيِي فَلَا جبکہ آپ نے احرام نہیں کھولا؟ آپ نے فرمایا: میں أَحِلُّ حَتَّى أَحِلَّ مِنَ الْحَجِّ۔اطرافه: ١٥٦٦، ۱۷۲٥، ۱۳۹۸، ٥٩١٦۔نے اپنے سر کے بال جمالئے تھے اور اپنے قربانی کے جانوروں کو ہار پہنا لئے تھے تو میں احترام نہیں کھولوں گا جب تک کہ میں حج سے فارغ نہ ہو جاؤں۔