صحیح بخاری (جلد سوم)

Page 373 of 743

صحیح بخاری (جلد سوم) — Page 373

البخاري - جلد۳ ۳۷ ٢٥ - كتاب الحج ١٦٩٦: حَدَّثَنَا أَبُو نُعَيْمٍ حَدَّثَنَا ۱۶۹۶: ابونعیم ( فضل بن دکین) نے ہم سے بیان أَفْلَحَ عَنِ الْقَاسِمِ عَنْ عَائِشَةُ رَضِيَ کیا کہ افلح بن حمید ) نے ہمیں بتایا۔انہوں نے قاسم اللهُ عَنْهَا قَالَتْ فَتَلْتُ فَلَائِدَ بُدْنِ ( بن محمد ) سے ، قاسم نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِيَدَيَّ ثُمَّ روایت کی کہ انہوں نے کہا: میں نے نبی ﷺ کی قربانی والے اونٹوں کے لئے ہارا اپنے ہاتھ سے بنائے۔قَلَّدَهَا وَأَشْعَرَهَا وَأَهْدَاهَا فَمَا حَرُمَ پھر آپ نے وہ ہار ان کے گلے میں ڈالے اور ان پر نشان لگایا اور مکہ کی طرف روانہ کر دیا۔اس کے بعد پھر کوئی بات عَلَيْهِ شَيْءٌ كَانَ أُحِلَّ لَهُ۔آپ کے لئے ممنوع نہ ہوئی جو آپ کے لیے حلال تھی۔اطرافه: ۱۹۹۸ ، ۱۶۹۹، ۱۷۰۰ ، ۱۷۰۱ ، ۱۷۰۲ ، ۱۷۰۳ ، ۱۷۰ ، ۱۷۰۰، ٢۳۱۷، ٥٥٦٦ ح مَنْ أَشْعَرَ وَقَلَّدَ بِدَى الْحُلَيْفَةِ ثُمَّ أَحْرَمَ: اشعار معنی جانوروں کے جسم پرشان لگانا۔کو ہان کو تیز دھار سے زخمی کرنا جس سے خون بہہ کر جم جائے اور نشان ہو جائے کہ یہ قربانی کا جانور ہے۔عارق طائی جو زمانہ جاہلیت کے شعراء میں سے ہیں ، عمرو بن ہند بادشاہ کو مخاطب کرتا اور کہتا ہے:۔حَلَفْتُ بِهَدْي مُشْعَرِ بَكَرَاتُهُ تَحُبُّ بِصَحْرَاءِ الْغَبِيطِ دَرَادِقُهُ لَئِنْ لَّمْ تُغَيَّرُ بَعْضُ مَا قَدْ صَنَعْتُمْ لا نتَحَبَنَّ الْعَظْمَ ذُوْانَا عَارِقُهُ شرح ديوان الحماسة باب الأضياف، عارق الطائي یعنی میں نے قسم کھائی ہے قربانی کے جانوروں کی جن کے جوان اور کم سن اونٹوں کے کوہان نشان شدہ ہیں اور جو صحراء غبط میں ڈکی جارہے ہیں۔اگر تو نے بے انصافی کا تدارک نہ کیا تو میں ہڈیاں تک چبا ڈالوں گا۔جن کا گوشت میں اتار کر کھانے والا ہوں۔اس شعر سے بھی ظاہر ہے کہ نشان لگانے کی رسم قدیم سے چلی آتی تھی۔تقلید یعنی گلے میں ہار ڈالنا۔اس سے بھی قربانی کے جانور کی شناخت مقصود تھی۔مجاہد کے نزدیک احرام باندھنے کے بعد مذکورہ بالا اشعار و تقلید کرنی چاہیے۔اس باب میں اس خیال کارڈ کرنا بھی مقصود ہے۔(فتح الباری جزء ۳ صفحہ ۶۸۶) ذوالحلیفہ مدینہ سے چھ میل کے فاصلے پر ہے اور اہل مدینہ کی میقات میں وہ مقام ہے، جہاں سے احرام باندھا جاتا ہے۔عنوانِ باب میں نافع کی جس روایت کا حوالہ دیا گیا ہے؛ وہ موطا امام مالک میں ہے۔جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ گویا میقات میں تقلید و اشعار کیا جائے۔(موطا امام مالک، كتاب الحج، باب العمل في الهدى حين يساق) مگر امام بخاری کے نزدیک یہ ضروری نہیں جیسا کہ روایت نمبر ۱۶۹۶ اسے ظاہر ہے۔جس واقعہ کا اس روایت میں ذکر ہے۔اس کا تعلق اس حج اور عمرہ سے ہے جو حضرت ابو بکر کی قیادت میں فتح مکہ کے بعد کیا گیا تھا۔اس حج کے لئے آنحضرت ﷺ خود تشریف نہیں لے گئے تھے۔کفار قریش اور