صحیح بخاری (جلد سوم) — Page 372
البخاری جلد ٣٧٢ ٢٥ - كتاب الحج عبد اللہ بن عمر نے قران کی نیت کر کے قربانی کا جانور دورانِ سفر خریدا تھا۔اس سے ظاہر ہے کہ یہ ضروری نہیں کہ جانور کو اپنے گھر سے لے جائے اور نہ یہ ضروری ہے کہ حرم میں اگر خریدا ہوتو وہ حرم سے باہر لے جایا جائے۔بَاب ١٠٦ : مَنْ أَشْعَرَ وَقَلَّدَ بِذِي الْحُلَيْفَةِ ثُمَّ أَحْرَمَ جو کوئی ذوالحلیفہ پہنچ کر قربانی کے جانور پر نشان لگائے اور اس کے گلے میں ہار ڈالے پھر احرام باندھے قبلہ رخ ہوتا اور وہ بیٹھا ہوتا۔وَقَالَ نَافِعٌ كَانَ ابْنُ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ اور نافع نے کہا: حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما جب عَنْهُمَا إِذَا أَهْدَى مِنَ الْمَدِينَةِ قَلَّدَهُ مدین سے قربانی کا جانور لاتے تو ذوالحلیفہ پہنچ کر اس وَأَشْعَرَهُ بِذِي الْحُلَيْفَةِ يَطْعُنُ فِي شِقّ کو ہار ڈالتے اور نشان لگاتے۔چھری سے اس کے سَنَامِهِ الْأَيْمَنِ بِالشَّفْرَةِ وَوَجْهُهَا قِبَلَ کو ہان کی دائیں جانب چیر دیتے۔جبکہ اس کا منہ الْقِبْلَةِ بَارِكَةٌ۔١٦٩٤ - ١٦٩٥: حَدَّثَنَا أَحْمَدُ :۱۶۹۴ - ۱۲۹۵: احمد بن محمد نے ہم سے بیان کیا ابْنُ مُحَمَّدٍ أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللهِ أَخْبَرَنَا کہ عبداللہ نے ہمیں خبر دی۔معمر نے ہمیں بتایا۔مَعْمَرٌ عَنِ الزُّهْرِيِّ عَنْ عُرْوَةَ بْنِ انہوں نے زہری سے، انہوں نے عروہ بن زبیر سے، الزُّبَيْرِ عَنِ عَنِ الْمِسْوَرِ بْنِ مَخْرَمَةَ عروہ نے مسور بن مخرمہ اور مروان سے روایت کی۔وَمَرْوَانَ قَالَا خَرَجَ النَّبِيُّ صَلَّى الله دونوں نے کہا: نبی صلی اللہ علیہ وسلم صلح حدیبیہ کے عَلَيْهِ وَسَلَّمَ زَمَنَ الْحُدَيْبِيَّةِ مِنَ موقع پر مدینہ ﷺ سے ایک ہزار سے کچھ اوپر صحابہ کی الْمَدِينَةِ فِي بِضْعَ عَشْرَةَ مِائَةً مِّنْ تعداد کے ساتھ نکلے۔یہاں تک کہ آپ ذوالحلیفہ أَصْحَابِهِ حَتَّى إِذَا كَانُوْا بِذِي الْحُلَيْفَةِ میں پہنچے تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے قربانی کے جانور کی قَلَّدَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ گردن میں ہار ڈالا اور اسے نشان لگایا اور عمرہ کا احرام الْهَدْيَ وَأَشْعَرَ وَأَحْرَمَ بِالْعُمْرَةِ۔باندھا۔اطراف الحديث ۱٦٩٤: ۱۸۱۱، ۲۷۱۲، ۲۷۳۱، ٤١٥۸ ٤١٧٨، ٤١٨١۔اطراف الحديث ١٦٩٥: ۲۷۱۱، ۲۷۳۲، ٤۱۰۷ ٤١٧٩، ٤١٨٠ الفاظ مِنَ الْمَدِينَةِ، فتح البارى مطبوعہ بولاق کے مطابق ہیں (فتح الباری جزء حاشیہ صفحہ ۶۸۵) ترجمہ اس کے مطابق ہے۔