صحیح بخاری (جلد سوم) — Page 371
البخاری جلد بَاب ١٠٥ : مَنِ اشْتَرَى الْهَدْيَ مِنَ الطَّرِيْقِ جو کوئی قربانی کا جانور راستہ سے خریدے ٢٥ - كتاب الحج ١٦٩٣ : حَدَّثَنَا أَبُو النُّعْمَانِ حَدَّثَنَا :۱۶۹۳ ابو نعمان نے ہم سے بیان کیا کہ حماد نے حَمَّادٌ عَنْ أَيُّوبَ عَنْ نَّافِعِ قَالَ قَالَ ہمیں بتایا۔انہوں نے ایوب سے، انہوں نے نافع عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ رَضِيَ سے روایت کی، کہا: عبداللہ بنعبد اللہ بنعمر رضی اللہ عنہم اللهُ عَنْهُمْ لِأَبِيْهِ أَقِمْ فَإِنِّي لَا آمَنُهَا أَنْ نے اپنے باپ سے کہا کہ آپ یہیں ٹھہرے رہیں کیونکہ میں اس حج کو آپ کے لئے با امن نہیں دیکھتا۔تُصَدَّ عَن الْبَيْتِ قَالَ إِذًا أَفْعَلُ كَمَا کہیں آپ بیت اللہ سے روک نہ دیئے جائیں۔انہوں فَعَلَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نے کہا: تو پھر میں ویسے ہی کروں گا جیسا رسول اللہ وَقَدْ قَالَ اللهُ : لَقَدْ كَانَ لَكُمْ فِي صلى اللہ علیہ وسلم نے کیا اور اللہ تعالیٰ فرما چکا ہے کہ رَسُوْلِ اللَّهِ أُسْوَةٌ حَسَنَةً (الأحزاب: ۲۲) تمہارے لئے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میں اچھا نمونہ ہے۔میں تم کو گواہ ٹھہراتا ہوں کہ میں نے اپنے فَأَنَا أُشْهِدُكُمْ أَنِّي قَدْ أَوْجَبْتُ عَلَى نفس پر عمرہ واجب کر لیا ہے تو حضرت ابن عمر نے عمرہ کا نَفْسِي الْعُمْرَةَ فَأَهَلَّ بِالْعُمْرَةِ۔قَالَ ثُمَّ احرام باندھا۔نافع نے کہا: پھر وہ (مدینہ سے) نکلے؟ خَرَجَ حَتَّى إِذَا كَانَ بِالْبَيْدَاءِ أَهَلَّ یہاں تک کہ جب بیداء میں پہنچے تو حج اور عمرہ دونوں بِالْحَجِّ وَالْعُمْرَةِ وَقَالَ مَا شَأْنُ الْحَج کا احرام باندھا اور بلند آواز سے لبیک کہنے کے بعد وَالْعُمْرَةِ إِلَّا وَاحِدٌ ثُمَّ اشْتَرَى الْهَدْيَ کہا: حج اور عمرہ کی بات ایک ہی ہے۔پھر انہوں نے مِنْ قُدَيْدٍ ثُمَّ قَدِمَ فَطَافَ لَهُمَا طَوَافًا قدید سے قربانی کا جانور خریدا۔پھر مکہ میں آئے اور عمرہ و حج دونوں کا ایک ساتھ طواف کیا اور احرام نہیں وَاحِدًا فَلَمْ يَحِلَّ حَتَّى حَلَّ مِنْهُمَا کھولا جب تک کہ ان دونوں سے بیک وقت فارغ جَمِيعًا۔نہ ہو گئے۔اطرافه : ١٦٣٩، ۱٦٤٠، ۱۷۰۸، ۱۸۰٦، ۱۸۰۷، ۱۸۰۸، ۱۸۱۰، ۱۸۱۲، ۱۸۱۳، تشریح: ٤١٨٣، ٤١٨٤، ٤١٨٥ مَنِ اشْتَرَى الْهَدْىَ مِنَ الطَّرِيقِ یہ باب بھی سابقہ باب کے مضمون کی تائید میں ہے۔قدید مقام حج کے راستہ پر ایسی جگہ پر واقع ہے جو حدود حرم میں نہیں۔(فتح الباری جزء ۳۰ صفحه ۶۸۴) حضرت