صحیح بخاری (جلد سوم)

Page 370 of 743

صحیح بخاری (جلد سوم) — Page 370

صحيح البخاری جلد ۳ ٣٧٠ ٢٥ - كتاب الحج وَالْمَرْوَةِ سَبْعَةَ أَطْوَافٍ ثُمَّ لَمْ يَحْلِلْ کر صفا میں آئے اور صفا و مروہ کے سات پھیرے مِنْ شَيْءٍ حَرُمَ مِنْهُ حَتَّى قَضَى حَجَّهُ کئے ۔ مگر آپ نے کوئی بات جائز نہیں سمجھی جو حج میں وَنَحَرَ هَدْيَهُ يَوْمَ النَّحْرِ وَأَفَاضَ فَطَافَ ممنوع ہو۔ یہاں تک کہ آپ نے اپنا حج پورا کیا اور بِالْبَيْتِ ثُمَّ حَلَّ مِنْ كُلِّ شَيْءٍ حَرُمَ مِنْهُ قربانی کے دن اپنی قربانی دی اور (مکہ میں ) واپس آئے اور بیت اللہ کا طواف کیا اور پھر احرام کھول کر وَفَعَلَ مِثْلَ مَا فَعَلَ رَسُوْلُ اللَّهِ صَلَّى ہر اس بات سے آزاد ہو گئے جو حج میں نا جائز تھی اور اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَنْ أَهْدَى وَسَاقَ جیسا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کیا؟ لوگوں نے الْهَدْيَ مِنَ النَّاسِ بھی ویسا ہی کیا جو قربانی کے جانور اپنے ساتھ لائے تھے اور قربانی کی تھی۔ ١٦٩٢: وَعَنْ عُرْوَةَ أَنَّ عَائِشَةَ :۱۶۹۲ اور عروہ سے مروی ہے کہ حضرت عائشہ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا أَخْبَرَتْهُ عَنِ النَّبِيِّ رضی اللہ عنہا نے ان کو نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي تَمَتَّعِهِ روایت کرتے ہوئے خبر دی کہ آپ نے اپنے تمتع بِالْعُمْرَةِ إِلَى الْحَجِّ فَتَمَتَّعَ النَّاسُ مَعَهُ میں عمرہ حج کے ساتھ ملا کر ادا کیا۔ (یعنی احرام نہیں کھولا ) اور لوگوں نے بھی آپ کے ساتھ و ساتھ ویسے ہی تمتع بِمِثْلِ الَّذِي أَخْبَرَنِي سَالِمٌ عَنِ ابْنِ کیا۔ سالم نے حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا عَنْ رَّسُوْلِ اللَّهِ روایت کرتے ہوئے مجھے بتایا۔ حضرت ابن عمر نے صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے یہی روایت کی ۔ تشريح : مَنْ سَاقَ الْبُدْنَ مَعَهُ : مقام مل سے مقام حرم تک قربانی کے جانوروں کو لے جانے کے بارہ میں بعض ائمہ کے درمیان اختلاف ہوا ہے۔ امام مالک کے نزدیک اگر حرم میں قربانی کے جانور خریدے تو اسے ایسی جگہ لے جائے جو حرم سے باہر ہو اور وہاں سے قربانی کی نیت کر کے حرم میں لائے اور پھر منی میں اسے ذبح کرے۔ اگر وہ ایسا نہیں کرتا کرتا تو اس پر فدیہ لازم آئے گا۔ امام ابو حنیفہ کے نزدیک یہ سنت نہیں اور نہ ضروری ہے۔ کیونکہ اونٹ تو لے جاسکتے ہیں۔ گائے ، بکری کا لے جانا تکلیف دہ ہے۔ ان جانوروں کے متعلق بھی امام مالک کا وہی فتوی ہے اور ان کی طرف سے یہ سہولت دی گئی ہے کہ عرفات سے منی میں لے جائیں۔ کیونکہ عرفات حرم میں شامل نہیں ۔ ( فتح الباری جزء ۳ صفحه ۶۸۱ ) (عمدۃ القاری جزء اصفحہ ۳۱ ) یہی اختلاف حل کرنے کی غرض سے یہ باب قائم کیا گیا ہے ۔ روایات مندرجہ بالا سے دونوں صورتیں جائز معلوم ہوتی ہیں۔ اسی لئے عنوانِ باب من سے قائم کر کے مسئلہ علی الاطلاق رکھا ہے۔