صحیح بخاری (جلد سوم) — Page 368
صحيح البخاری جلد ۳ ۳۶۸ ٢٥ - كتاب الحج تشریح : رُكُوبُ الْبُدْنِ: زمانہ جاہلیت کے عقائد میں سے ایک عقدہ یہ ھی تھا کہ ربانی کے انور پر سوارہونا یا اس کا دودھ پینا خلاف ادب اور ناجائز ہے۔ اس لئے حج کو پیدل جانا افضل سمجھتے تھے ۔ بلکہ ایسے حج کی صلى الله عليه منت مانی جاتی تھی ۔ آیت آیت محولہ بالا میں لَكُمْ فِيهَا خَيْرٌ سے مطابق ضرورت کا استدلال کیا گیا ہے۔ آنحضرت نے ناراضگی کا جو اظہار فرمایا؛ وہ اسی باطل عقیدہ کی بیخ کنی کی غرض سے تھا۔ آیت وَمَنْ يُعَظِمُ شَعَائِرَ اللَّهِ (الحج:۳۳) سے امام مالک، امام ابو حنیفہ، امام شافعی اور اکثر فقہاء نے استنباط کیا ہے کہ قربانی کے جانور پر سواری کرنا مکروہ ہے۔ بلکہ ثانی الذکر امام کی ایک روایت یہ بھی ہے کہ قربانی کے جانور پر سوار ہونا قطعی حرام ہے۔ ( فتح الباری جزء ۳ صفحہ ۶۷۹) صحیح مسلم کی روایت کے مطابق جائز ہے۔ ایک حدیث مرفوعاً مروی ہے۔ اس کے الفاظ یہ ہیں: ارْكَبُهَا بِالْمَعْرُوفِ۔ (مسلم، كتاب الحج، باب جواز ركوب البدنة) اس روایت کے الفاظ کی صحت بھی مد نظر معلوم ہوتی ہے۔ دوسری آیت میں تسخیر کا ذکر ہے، جس سے استفادہ کا جواز ظاہر ہے۔ دونوں آیتیں روایت نمبر ۱۶۸۹، ۱۶۹۰ کے مضمو ۱۶۹۰ کے مضمون کی تائید میں ہیں۔ دلوں کا تقویٰ تقاضا کرتا ہے کہ جانوروں کے ساتھ بھی بھلا سلوک ہو۔ خصوصاً قربانی کے جانور جو قابل عزت ہیں اور انہیں لمبا سفر کرنا پڑتا ہے۔ اس لئے ان فقہاء کا فتویٰ حد اعتدال پر ہے جنہوں نے عند الضرورت استفادہ جائز قرار دیا ہے۔ امام شافعی کے نزدیک دودھ دوہ کر بطور صدقہ دینا زیادہ مناسب ہے اور اگر وہ خود استعمال کرے تو اس کی قیمت صدقہ میں دے۔ ( فتح الباری جزء ۳۰ صفحہ ۶۸۰) اس مسئلہ کے تعلق میں امام بخاری نے شعائر اللہ کی تفسیر جو مجاہد سے نقل کی ہے۔ اس سے یہ سمجھانا مقصود ہے کہ قربانی کے جانوروں کے ساتھ نیک سلوک کرنا اور ان کی نگہداشت کرنا ضروری ہے۔ وَالْعَتِيقُ عِتَّقُهُ مِنَ الْجَبَابِرَةِ : لفظ عتیق کی تشریح سے امام موصوف کی مراد یہ معلوم ہوتی ہے کہ ان پر سختی نہ کی جائے اور نہ ان کو بھوکا رکھا جائے اور بطور لا دو یا بیگا نہ جانوروں کی طرح ان سے برتاؤ نہ کیا جائے۔ محولہ بالا آیت یہ ہے: وَلْيَطَّوَّفُوا بِالْبَيْتِ الْعَتِيقِ (الحج: ٣٠) باب ١٠٤ : مَنْ سَاقَ الْبُدْنَ مَعَهُ جو کوئی قربانی کا جانور اپنے ساتھ لے جائے ١٦٩١: حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ بُكَيْرٍ ١٦٩١: حي بن بکیر نے ہم سے بیان کیا کہ لیث نے حَدَّثَنَا اللَّيْثُ عَنْ عُقَيْلِ عَنِ ابْنِ ہمیں بتایا۔ انہوں نے عقیل سے، انہوں نے ابن شِهَابٍ عَنْ سَالِمِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ أَنَّ ابْنَ شہاب سے، ابن شہاب نے سالم بن عبداللہ سے عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا قَالَ تَمَتَّعَ روایت کی کہ حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما نے کہا: رَسُوْلُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حجۃ الوداع میں تمتع کیا