صحیح بخاری (جلد سوم) — Page 366
تشریح: البخاری جلد۳ ۳۶۶ ٢٥ - كتاب الحج فَمَنْ تَمَتَّعَ بِالْعُمْرَةِ إِلَى الْحَجِّ فَمَا اسْتَيْسَرَ مِنَ الْهَدْيِ: بعض شارحین کا خیال ہے کہ رمی جمار کا۔جو ارکان حج میں آخری رکن ہے۔ذکر کرنے کے بعد مسائل متعلقہ قربانی کے تعلق میں مذکورہ بالا اور مابعد کے ابواب قائم کئے گئے ہیں۔آیت جو اس موضوع کے لئے انتخاب کی ہے؛ اس میں عمرہ کا بھی ذکر ہے۔یعنی حج کرنے والا آ کر عمرہ کی نیت کرلے تو یہ ان لوگوں کے لئے جائز ہے جو مکہ مکرمہ کے باشندے نہ ہوں۔اس کا ذکر باب ۳۴ میں مفصل گذر چکا ہے۔اس تعلق میں یہ ذکر کرنا خالی از فائدہ نہ ہوگا کہ زمانہ جاہلیت میں تمتع یا قران کی صورتیں جائز نہ مجھی جاتی تھیں۔اسی لئے اسلام نے مشرکین عرب کی یہ غلط فہمی دور کی۔بَابِ ۱۰۳: رُكُوبُ الْبُدْنِ قربانی کے جانور پر سوار ہونا لِقَوْلِهِ: وَالْبُدْنَ جَعَلْنَاهَا لَكُمْ مِنْ کیونکہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: قربانی کے جانور ہم نے تمہارے شَعَائِرِ اللَّهِ لَكُمْ فِيهَا خَيْر فَاذْكُرُوا لئے بطور شعائر اللہ مقرر کئے ہیں۔ان میں تمہارے اسْمَ اللهِ عَلَيْهَا صَوَافَ فَإِذَا وَجَبَتْ لئے بھلائی ہے۔سوصف بستہ ہوکر بوقت قربانی ان پر جُنُوبُهَا فَكُلُوا مِنْهَا وَأَطْعِمُوا الْقَانِعَ اللہ کا نام لو۔جب ان کی کروٹیں زمین پر ٹک جائیں؟ وَالْمُعْتَرَ كَذَلِكَ سَخَّرْنَاهَا لَكُمْ پھر گوشت کھاؤ اور کھلاؤ قانع کو بھی اور سائل کو بھی۔اسی لئے ہم نے تمہارے واسطے انہیں مسخر کیا ہے تا کہ لَعَلَّكُمْ تَشْكُرُونَ لَنْ يَنَالَ اللَّهَ تم شکر گذار ہو۔ان کے گوشت اللہ کو ہرگز نہیں پہنچتے لُحُومُهَا وَلَا دِمَاؤُهَا وَلَكِنْ يَنَالُهُ التَّقْوَى اور نہ ہی ان کے خون۔لیکن تمہارا تقویٰ اسے پہنچتا مِنْكُمْ ۚ كَذَلِكَ سَخَّرَهَا لَكُمْ ہے۔ہم نے تمہارے لئے اسی واسطے انہیں مسخر کیا لِتُكَبِّرُوا اللَّهَ عَلَى مَا هَدَاكُمْ ہے کہ تم اللہ کو سب سے بڑا سمجھو۔جیسا کہ اس نے الْمُحْسِنِيْنَ (الحج: ۳۷-۳۸) تمہاری رہنمائی کی ہے اور نیکوکاروں کو بشارت دو۔قَالَ مُجَاهِدٌ سُمِّيَتِ الْبُدْنَ لِبُدْنِهَا مجاہد نے کہا: قربانی کے جانور کا نام بُڈن اس لئے رکھا وَالْقَانِعُ السَّائِلُ وَالْمُعْتَرُّ الَّذِي يَعْتَرُّ گیا ہے کہ وہ موٹے تازے ہوتے ہیں اور قانع کے معنی مانگنے والا اور معتر کے معنے جو قربانی کا گوشت نہ بِالْبُدْنِ مِنْ غَنِيَ أَوْ فَقِيْرٍ وَشَعَائِرُ اللَّهِ مانگے ، خواہ وہ فنی ہو یا محتاج اور شعائر اللہ کے معنی ہیں اسْتِعْطَامُ الْبُدْنِ وَاسْتِحْسَانُهَا وَالْعَتِيقِ کہ وہ عزت کی نگاہ سے دیکھے جائیں اور ان کے