صحیح بخاری (جلد سوم)

Page 365 of 743

صحیح بخاری (جلد سوم) — Page 365

صحيح البخاری جلد ۳ ۳۶۵ ٢٥ - كتاب الحج باب ۱۰۲ فَمَنْ تَمَتَّعَ بِالْعُمْرَةِ إِلَى الْحَجِّ فَمَا اسْتَيْسَرَ مِنَ الْهَدْيِ فَمَنْ لَمْ يَجِدْ فَصِيَامُ ثَلَاثَةِ أَيَّامٍ فِي الْحَجِّ وَسَبْعَةِ إِذَا رَجَعْتُمْ تِلْكَ عَشَرَةٌ كَامِلَةٌ ذَلِكَ لِمَنْ لَمْ يَكُنَّ أَهْلُهُ حَاضِرِي الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ (البقرة: ۱۹۷) جو حج کے ساتھ عمرہ سے بھی فائدہ اُٹھائے تو جو قربانی میسر ہو؛ دے اور اگر قربانی نہ پاسکے تو حج میں تین روزے رکھے اور حج سے واپسی پر سات روزے رکھے۔ یہ پورے دس روزے ہیں ان کے لئے جن کے گھر والے مسجد حرام کے رہنے والے نہ ہوں ۔ ١٦٨٨: حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ ۱۶۸۸: اسحق بن منصور نے ہم سے بیان کیا۔ نصر مَنْصُورٍ أَخْبَرَنَا النَّضْرُ أَخْبَرَنَا شُعْبَةُ ( بن شميل ) نے ہمیں خبر دی کہ شعبہ نے ہمیں بتایا۔ حَدَّثَنَا أَبُو جَمْرَةَ قَالَ سَأَلْتُ ابْنَ ابو جمرہ نے ہم سے بیان کیا، کہا: میں نے حضرت ابن عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا عَنِ الْمُتْعَةِ عباس رضی اللہ عنہا سے متمتع کی بابت بابت پوچھا تو انہوں فَأَمَرَنِي بِهَا وَسَأَلْتُهُ عَنِ الْهَدْيِ فَقَالَ نے کہا کہ کرلو اور میں نے ان سے قربانی کی بابت فِيهَا جَزُورٌ أَوْ بَقَرَةً أَوْ شَاةٌ أَوْ شِرْكٌ اچھا تو انہوں نے کہا: اس میں ایک اونٹ یا گائے یا ایک بکری کی قربانی ہے۔ یا اونٹ یا گائے کے ذبیحہ فِي دَمِ قَالَ وَكَأَنَّ نَاسًا كَرِهُوهَا میں شریک ہو جاؤ۔ ابوجمرہ نے کہا: ایسے معلوم ہوتا فَنِمْتُ فَرَأَيْتُ فِي الْمَنَامِ كَأَنَّ إِنْسَانًا ہے کہ بعض لوگوں نے ناپسند کیا ہے۔ پھر میں سو گیا۔ يُنَادِي حَجٌ مَّبْرُورٌ وَمُتْعَةٌ مُتَقَبَّلَةٌ خواب میں دیکھتا ہوں ۔ جیسے ایک انسان پکار رہا ہے فَأَتَيْتُ ابْنَ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا کہ یہ حج مبارک ہے اور تمتع مقبول ہے۔ تو میں حضرت فَحَدَّثْتُهُ فَقَالَ اللهُ أَكْبَرُ سُنَّةُ أَبِي ابن عباس رضی اللہ عنہما کے پاس آیا۔ ان سے الْقَاسِمِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ خواب بیان کی۔ انہوں نے کہا: اللہ اکبر کیوں نہ ہو۔ سنت۔ وَقَالَ آدَمُ وَوَهْبُ بْنُ جَرِيرٍ وَغندر یا ابوالقاسم صل اللہ علیہ سلم ک منت ہے۔ ابو جمرہ نے کہا: آدم، وهب بن جریر اور غندر نے شعبہ سے یہ عَنْ شُعْبَةَ عُمْرَةٌ مُتَقَبَّلَةٌ وَحَجٌ مَّبْرُورٌ الفاظ نقل کئے ہیں۔ یہ عمرہ مقبول ہے اور حج مبارک ۔ اطرافه: ١٥٦٧۔