صحیح بخاری (جلد سوم)

Page 364 of 743

صحیح بخاری (جلد سوم) — Page 364

البخاری جلد۳ ٢٥ - كتاب الحج يُلتِي حَتَّى رَمَى جَمْرَةَ الْعَقَبَةِ۔تھے ؛ یہاں تک کہ جمرہ عقبہ میں کنکریاں پھینکیں۔اطراف الحديث ١٦٨٦: ١٥٤٣- اطراف الحدیث ١٦٨٧: ١٥٤٤، ١٦٧٠، ١٦٨٥- تشریح: التَّلْبِيَةُ وَالتَّكْبِيرُ غَدَاةَ النَّحْرِ : تلبیہ یعنی لبیک پکارنا حج کے ضروری ارکان میں سے ہے۔جو مختلف مقامات میں رمی جمار تک رات دن مسلسل جاری رہنا چاہیے۔بعض فقہاء کے نزدیک حرم میں داخل ہونے تک تلبیہ بند کر دینا چاہیے۔البتہ تکبیر دہرائی جائے۔طحاوی کی روایت کے مطابق حضرت عبد اللہ بن مسعودؓ کے تلبیہ پر بعض نے اعتراض کیا اور کہا: مَنْ هَذَا الْأَعْرَابِي۔یہ بدو کون ہے تو انہوں نے کہا: تعجب ہے کہ لوگ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت بھول گئے یا بھٹک گئے اور کہا: بخدا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جمرہ عقبہ پر رمی کرنے تک دونوں باتیں یعنی تلبیہ اور تکبیر ملا جلا کر کرتے تھے۔(شرح معانی الآثار ، كتاب مناسك الحج، باب التلبية متى يقطعها الحاج، جزء ۲ صفحہ ۲۲۳) امام بیہقی کی روایت میں ہے کہ حضرت عبداللہ بن مسعود بالوں کی لٹوں اور وضع قطع اور سادہ لباس کی وجہ سے پہنچانے نہ گئے۔(سنن الکبری للبیھقی، كتاب الحج، باب التلبية حتى يرمی جمرة العقبة، روایت نمبر ۹۳۸۷، جز ۵۰ صفحہ ۱۳۸) تفصیل کے لئے دیکھئے فتح الباری جزء صفحہ ۶۷۴ نیز دیکھئے عمدۃ القاری جزء ۱۰صفحه ۲۳ ۲۴۔امام بخاری کے نزدیک دونوں کا دہرایا جانا ضروری ہے۔روایت نمبر ۱۶۸۶،۱۶۸۵ میں تلبیہ کا ذکر ہے مگر چونکہ صحابہ کرام اتباع سنت میں تلبیہ و کبیر دونوں کہا کرتے تھے۔اس تواتر کی وجہ سے باب کے عنوان میں تکبیر کا بھی ذکر کیا گیا ہے۔(دیکھئے روایت نمبر ۱۶۵۹) الْإِرْتِدَافُ : ارتداف یعنی اپنے پیچھے سواری پر بٹھانا۔اس کا ذکر بظاہر بے محل معلوم ہوتا ہے اور نہ یہ ارکان حج میں ہے۔مگر امام موصوف نے حسب عادت اس سے امر واقعہ کی طرف اشارہ کیا ہے کہ تلبیہ جاری رکھنے سے متعلق دو مختلف راویوں حضرت اسامہ بن زید اور حضرت فضل بن عباس کی عینی شہادت ہے۔جنہیں عرفات سے مزدلفہ اور مزدلفہ سے منی تک مختلف اوقات میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ آپ کے پیچھے اونٹنی پر سوار ہونے کا موقع ملا۔لَمْ يَزَلِ النَّبِيُّ الله يُلَبِي حَتَّى رَمَى جَمْرَةَ الْعَقَبَةِ۔اس شہادت کی موجودگی میں حرم کے اندر تلبیہ بند کرنے کا خیال درست نہیں۔اس بناء پر لفظ ارتداف عنوانِ باب میں نمایاں کیا گیا ہے۔