صحیح بخاری (جلد سوم)

Page 362 of 743

صحیح بخاری (جلد سوم) — Page 362

البخاری جلد ۳۶۲ باب ۱۰۰ ١٠ : مَتَى يُدْفَعُ مِنْ جَمْعِ مزدلفہ سے کب چلے ٢٥ - كتاب الحج ١٦٨٤ : حَدَّثَنَا حَجَّاجُ بْنُ مِنْهَالٍ ۱۶۸۴: حجاج بن منہال نے ہمیں بتایا کہ شعبہ نے حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ سَمِعْتُ ہم سے بیان کیا کہ انہوں نے ابوالحق سے روایت کی عَمْرَو بْنَ مَيْمُوْنٍ يَقُولُ شَهِدْتُ عُمَرَ که عمرو بن میمون سے میں نے سنا۔کہتے تھے کہ میں رَضِيَ اللهُ عَنْهُ صَلَّى بِجَمْعِ الصُّبْحَ ثُمَّ حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے ساتھ موجود تھا۔انہوں وَقَفَ فَقَالَ إِنَّ الْمُشْرِكِيْنَ كَانُوا لَا نے مزدلفہ میں صبح کی نماز پڑھی۔پھر وقوف کیا اور کہا يُفِيْضُونَ حَتَّى تَطْلُعَ الشَّمْسُ که مشرک مزدلفہ سے نہیں لوٹتے تھے جب تک کہ وَيَقُوْلُوْنَ أَشْرِقْ ثَبِيْرُ وَإِنَّ النَّبِيَّ صَلَّى سورج نہ نکل آتا اور وہ کہا کرتے تھے: ٹبیر (پہاڑ) اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَالَفَهُمْ ثُمَّ أَفَاضَ قَبْلَ چیک اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے خلاف کیا۔آپ کوٹے پہلے اس سے کہ سورج نکلتا۔أَنْ تَطْلُعَ الشَّمْسُ۔اطرافه ۳۸۳۸ تشریح: مَتَى يُدْفَعُ مِنْ جَمْع : صحیح مسلم میں حضرت جابر سے ایک روایت ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم قصواء اونٹنی پر سوار ہوئے اور مشعر الحرام میں پہنچ کر وقوف کیا۔قبلہ رخ ہوکر دیر تک ذکر الہی (تسبیح وتحمید وعمیر) اور دعا میں مشغول رہے۔حَتَّى أَسْفَرَ جدًا۔یہاں تک کہ خوب روشنی ہو گئی۔پھر سورج نکلنے سے قبل وہاں سے منی کی طرف روانہ ہوئے۔(مسلم، کتاب الحج، باب حجة النبى ظلال الالم اس کی تائید حضرت عبد اللہ بن مسعودؓ کی روایت سے بھی ہوتی ہے۔(دیکھئے روایت نمبر ۱۶۸۳) امام مالک کے نزدیک اسفار یعنی روشنی سے قبل کوچ کرنا چاہیے۔(فتح الباری جز ۳۰ صفحه ۶۷۲ ) اس اختلاف کے پیش نظر یہ باب بصورت استفتاء قائم کیا گیا ہے اور اس کا جواب محذوف ہے۔یعنی ضرورت کے ماتحت دونوں صورتیں جائز ہیں۔لیکن بہر حال سورج نکلنے سے پہلے کوچ ضروری ہے؛ تا مشرکین کی اتباع نہ ہو۔اس تعلق میں باب ۹۵ کی تشریح بھی ملاحظہ ہو۔