صحیح بخاری (جلد سوم) — Page 361
صحيح البخاری جلد ۳ ۳۶۱ ٢٥ - كتاب الحج عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ إِلَى مَكَّةَ ثُمَّ نے کہا : ہم حضرت عبداللہ (ابن مسعود ) رضی اللہ عنہ قَدِمْنَا جَمْعًا فَصَلَّى الصَّلَاتَيْنِ كُلَّ کے ساتھ مکہ کی طرف نکلے۔ پھر ہم مزدلفہ میں آئے ۔ صَلَاةٍ وَحْدَهَا بِأَذَانِ وَإِقَامَةِ وَالْعَشَاءُ تو انہوں نے دو نمازیں ) انے دو نمازیں ( ملا کر ) پڑھیں۔ ہر نماز الگ اذان الگ تکبیر اقامت کے ساتھ اور رات کا کھانا بَيْنَهُمَا ثُمَّ صَلَّى الْفَجْرَ حِيْنَ طَلَعَ الْفَجْرُ قَائِلٌ يَقُوْلُ طَلَعَ الْفَجْرُ وَقَائِلٌ ان دونوں کے درمیان کھایا۔ پھر انہوں نے صبح کی نماز فجر ہوتے ہی پڑھی۔ کہنے والا کہتا تھا کہ فجر ہو گئی يَقُوْلُ لَمْ يَطْلُعِ الْفَجْرُ ثُمَّ قَالَ إِنَّ اور کوئی کہنے والا کہتا تھا کہ فجر بھی نہیں ہوئی۔ پھر رَسُوْلَ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ حضرت عبداللہ نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم إِنَّ هَاتَيْنِ الصَّلَاتَيْنِ حُوَلَتَا عَنْ نے فرمایا: اس جگہ یہ دو نمازیں اپنے مقررہ وقت سے وَقْتِهِمَا فِي هَذَا الْمَكَانِ الْمَغْرِبَ ہٹادی گئی ہیں۔ یعنی مغرب اور عشاء اور لوگ مزدلفہ وَالْعِشَاءَ فَلَا يَقْدَمُ النَّاسُ جَمْعًا حَتَّی اس وقت آتے کہ اندھیرا ہو جاتا اور فجر کی نماز اس يُعْتِمُوْا وَصَلَاةَ الْفَجْرِ هَذِهِ السَّاعَةَ ثُمَّ وقت پڑھی جاتی جس وقت پڑھی گئی ہے۔ پھر حضرت عبد اللہ نے وقوف کیا۔ یہاں تک کہ خوب روشنی ہو گئی۔ پھر انہوں نے کہا: امیر المؤمنین (یعنی حضرت عثمان ) اگر اس وقت مزدلفہ سے لوٹیں تو انہوں نے فَمَا أَدْرِي أَقَوْلُهُ كَانَ أَسْرَعَ أَمْ دَفْعُ ٹھیک سنت کے مطابق کیا۔ (عبدالرحمن کہتے تھے:) عُثْمَانَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ فَلَمْ يَزَلْ يُلَبِّي میں نہیں جانتا کہ حضرت عبداللہ بن مسعودؓ کا یہ قول حَتَّى رَمَى جَمْرَةَ الْعَقَبَةِ يَوْمَ النَّحْرِ پہلے تھایا حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کی واپسی ۔ حضرت وَقَفَ حَتَّى أَسْفَرَ ثُمَّ قَالَ لَوْ أَنَّ أَمِيْرَ الْمُؤْمِنِينَ أَفَاضَ الْآنَ أَصَابَ السُّنَّةَ اطرافه: ١٦٧٥، ١٦٨٢، ابن مسعود لبیک کہتے رہے؛ یہاں تک کہ قربانی کے ون جمرۃ العقبہ میں کنکریاں پھینکیں۔ تشریح : اس باب کی روایتوں کی تشریح کے لیے باب ۹۵ وے کی تشریح دیکھئے ۔