صحیح بخاری (جلد سوم)

Page 360 of 743

صحیح بخاری (جلد سوم) — Page 360

۳۶۰ صحيح البخاری جلد۳ ٢٥-كتاب الحج مثلاً علقمہ نخعی اور عامر شعبی نے مزدلفہ میں رات گزارنا ضروری قرار دیا ہے کہ اس کے بغیر حج مکمل نہیں ہوتا۔فقہائے کوفہ اور عطاء، زہری، قتادہ اور امام شافعی وغیرہ کے نزدیک عدم قیام کی وجہ سے قربانی کا فدیہ دینا لازم آئے گا۔( فتح الباری جزء۳ صفحہ ۶۶۶) اس اختلاف کے پیش نظر مذکورہ بالا باب قائم کیا گیا ہے۔مگر جیسا کہ مذکورہ بالا مستند روایتوں سے واضح ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے کمزوروں کو ازدحام سے بچانے کی خاطرمنی کی طرف پہلے بھیج دیا کہ وہ مزدلفہ سے فارغ ہو کر لوٹ آئیں۔اس صورت میں ان کا قیام مزدلفہ میں مختصر ہوگا۔جیسا کہ چوتھی روایت سے ظاہر ہے کہ حضرت اسماء بنت ابی بکر چاند ڈوبتے ہی منی میں گئیں اور پھر وہاں سے مزدلفہ آ کر اپنی قیام گاہ میں نماز فجر پڑھی اور جب اُن پر اعتراض کیا گیا تو انہوں نے جواب دیا کہ عورتوں کو اجازت تھی۔اس روایت سے ظاہر ہے کہ سورج نکلنے سے پہلے؛ کمر و رلوگوں کے عدم قیامِ مزدلفہ اور وقوف منی میں امام کے ساتھ ان کی عدم شراکت بھی جائز ہے اور ان پر کوئی فدیہ نہیں۔بَابِ ۹۹ : مَتَى يُصَلِّي الْفَجْرَ بِجَمْعِ جو مزدلفہ میں فجر کی نماز پڑھے ١٦٨٢ : حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ حَفْصٍ ۱۶۸۲: عمر بن حفص بن غیاث نے ہم سے بیان کیا ابْنِ غِيَاثٍ حَدَّثَنَا أَبِي حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ کہ میرے باپ نے ہمیں بتایا۔اعمش نے ہم سے قَالَ حَدَّثَنِي عُمَارَةُ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بیان کیا، کہا: عمارہ نے مجھے بتایا۔انہوں نے عَنْ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ مَا عبدالرحمن بن یزید) سے، انہوں نے حضرت رَأَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عبداللہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی۔انہوں نے کہا: صَلَّى صَلَاةٌ لِغَيْرِ مِيْقَاتِهَا إِلَّا صَلَاتَيْنِ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو نہیں دیکھا کہ آپ نے الْمَغْرِبِ وَالْعِشَاءِ وَصَلَّی کوئی نماز اپنے وقت پر نہ پڑھی ہو؛ سوائے مغرب جَمَعَ بَيْنَ اور عشاء کی دو نمازوں کے؛ جو آپ نے مزدلفہ میں الْفَجْرَ قَبْلَ مِيْقَاتِهَا۔اطرافه ١٦٧٥ ١٦٨٣ جمع کیں اور صبح کی نماز اپنے وقت سے پہلے پڑھی۔١٦٨٣ : حَدَّثَنَا عَبْدُ اللهِ بْنُ رَجَاءٍ ۱۶۸۳: عبداللہ بن رجاء نے ہم سے بیان کیا کہ حَدَّثَنَا إِسْرَائِيْلُ عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ عَنْ اسرائیل نے ہمیں بتایا۔انہوں نے ابواسحق سے، عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ يَزِيدَ قَالَ خَرَجْنَا مَعَ ابو الحق نے عبدالرحمن بن یزید سے روایت کی۔انہوں کالا بخاری کے بعض نسخوں میں یہ عنوان "مَنْ يُصَلِّى الْفَجْرَ“ ہے۔(عمدۃ القاری جزء ۹ صفحہ ۲۰) ترجمہ اس کے مطابق ہے۔