صحیح بخاری (جلد سوم) — Page 359
صحيح البخاری جلد۳ ۳۵۹ ٢٥-كتاب الحج ١٦٨٠: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ كَثِيرٍ :۱۶۸۰ محمد بن کثیر نے ہم سے بیان کیا کہ سفیان أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ هُوَ نے ہمیں خبر دی کہ عبدالرحمن نے ہمیں بتایا۔یہ ابْنُ الْقَاسِمِ عَنِ الْقَاسِمِ عَنْ عَائِشَةَ عبد الرحمن، قاسم ( بن محمد ) کے بیٹے ہیں۔انہوں نے رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا قَالَتْ اسْتَأْذَنَتْ سَوْدَةُ قاسم ہے، قاسم نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کی کہ انہوں نے کہا: حضرت سودہ نے نبی النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَيْلَةَ جَمْعِ صلی اللہ علیہ وسلم سے مزدلفہ کی رات اجازت لی اور وہ وَكَانَتْ ثَقِيْلَةً ثَبْطَةٌ فَأَذِنَ لَهَا۔بھاری بھر کم تھیں اور آپ نے انہیں اجازت دے دی۔اطرافه: ١٦٨١۔١٦٨١: حَدَّثَنَا أَبُو نُعَيْمٍ حَدَّثَنَا ۱۶۸۱: ابونعیم نے ہم سے بیان کیا کہ افلح بن حمید أَفْلَحُ بْنُ حُمَيْدٍ عَنِ الْقَاسِمِ بْنِ مُحَمَّدٍ نے ہمیں بتایا۔انہوں نے قاسم بن محمد سے، قاسم نے عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا قَالَتْ نَزَلْنَا حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کی کہ انہوں الْمُزْدَلِفَةَ فَاسْتَأْذَنَتِ النَّبِيَّ صَلَّى الله نے کہا: ہم مزدلفہ میں آئے تو حضرت سودہ نے نبی عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَوْدَةُ أَنْ تَدْفَعَ قَبْلَ صلى اللہ علیہ وسلم سے اجازت مانگی کہ وہ لوگوں کے حَطْمَةِ النَّاسِ وَكَانَتِ امْرَأَةً بَطِيفَةً ہجوم سے پہلے مزدلفہ سے لوٹ جائیں اور وہ تیز نہیں چل سکتی تھیں تو آپ نے انہیں اجازت دی۔تو وہ فَأَذِنَ لَهَا فَدَفَعَتْ قَبْلَ حَطْمَةِ النَّاسِ لوگوں کے ہجوم سے پہلے روانہ ہو گئیں اور ہم وہاں صبح وَأَقَمْنَا حَتَّى أَصْبَحْنَا نَحْنُ ثُمَّ دَفَعْنَا تک ٹھہرے اور پھر آپ کے واپس ہونے پر ہم بھی بِدَفْعِهِ فَلَأَنْ أَكُوْنَ اسْتَأْذَنْتُ رَسُوْلَ واپس ہوئے اور اگر میں بھی رسول اللہ صل اللہ علیہ وسلم اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَمَا سے اجازت لے لیتی جیسا کہ حضرت سودہ نے اسْتَأْذَنَتْ سَوْدَةُ أَحَبُّ إِلَيَّ مِنْ اجازت لی تو یہ بات خوش کن باتوں میں سے میرے مَّفْرُوحٍ بِهِ۔اطرافه: ١٦٨٠- لئے بہت پسندیدہ ہوتی۔تشریح : مَنْ قَدَّمَ ضَعَفَةَ اَهْلِهِ بِلَيْلٍ : اس باب کے تحت چھ حدیثیں نقل کی گئی ہیں۔جن سے ظاہر ہے کہ کمزور لوگوں کا عرفات سے واپس آکر مزدلفہ میں ٹھہرنا اور آرام کر کے پھر وہاں سے صبح منی جانا جائز ہے۔اس مختصر قیام میں بھی وہ عبادت اور ذکر الہی میں مشغول رہیں گے اور یہ مناسک حج کا ایک حصہ ہی ہے۔بعض علمائے سلف