صحیح بخاری (جلد سوم) — Page 358
صحيح البخاری جلد ۳ ۳۵۸ ٢٥ - كتاب الحج ١٦٧٨ : حَدَّثَنَا عَلِيٌّ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ :۱۶۷۸: علی ( بن عبداللہ مدینی ) نے ہم سے بیان قَالَ أَخْبَرَنِي عُبَيْدُ اللهِ بْنُ أَبِي يَزِيدَ کیا، کہا:) سفیان نے ہمیں بتایا، کہا: عبید اللہ بن سَمِعَ ابْنَ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا الى يزيد نے مجھے خبر دی۔ انہوں نے حضرت ابن عباس يَقُوْلُ أَنَا مِمَّنْ قَدَّمَ النَّبِيُّ صَلَّى الله رضی اللہ عنہما سے سنا۔ کہتے تھے کہ میں ان لوگوں میں سے تھا جنہیں نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مزدلفہ کی رات عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَيْلَةَ الْمُزْدَلِفَةِ فِي ضَعَفَةِ أَهْلِهِ۔ اطرافه ١٦٧٧، ١٨٥٦ ۔ کو اپنے اہل بیت میں سے کمزور لوگوں کے ساتھ پہلے بھیجا تھا۔ ١٦٧٩ : حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ عَنْ يَحْيَى :۱۶۷۹ مسدد نے ہم سے بیان کیا۔ انہوں نے عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ قَالَ حَدَّثَنِي عَبْدُ اللهِ کي سے بچی نے ابن جریج سے روایت کی کہ انہوں مَوْلَى أَسْمَاءَ عَنْ أَسْمَاءَ أَنَّهَا نَزَلَتْ نے کہا: حضرت اسمائو کے آزاد کردہ غلام عبداللہ نے مجھ سے بیان کیا۔ انہوں نے حضرت اسماء سے لَيْلَةَ جَمْعِ عِنْدَ الْمُزْدَلِفَةِ فَقَامَتْ روایت کی کہ وہ مزدلفہ کی رات مزدلفہ کے قریب تُصَلِّي فَصَلَّتْ سَاعَةً ثُمَّ قَالَتْ يَا بُنَيَّ اُتریں اور کھڑے ہو کر نماز پڑھنے لگیں تو ایک گھڑی هَلْ غَابَ الْقَمَرُ قُلْتُ لَا فَصَلَّتْ سَاعَةً نماز پڑھی۔ پھر انہوں نے کہا: بیٹا! کیا چاند ڈوب گیا ثُمَّ قَالَتْ هَلْ غَابَ الْقَمَرُ قُلْتُ نَعَمْ ہے؟ میں نے کہا: نہیں۔ پھر تھوڑی دیر اور نماز پڑھی۔ قَالَتْ فَارْتَحِلُوْا فَارْتَحَلْنَا وَمَضَيْنَا پھر کہنے لگیں: کیا چاند ڈوب گیا ہے؟ میں نے کہا: ہاں۔ تو انہوں نے کہا: اب کوچ کرو تو ہم نے کوچ کیا اور حَتَّى رَمَتِ الْجَمْرَةَ ثُمَّ رَجَعَتْ چلے ۔ یہاں تک کہ ( منی پہنچ کر ) کنکریاں پھینکیں ۔ فَصَلَّتِ الصُّبْحَ فِي مَنْزِلِهَا فَقُلْتُ لَهَا يَا پھر لوٹیں اور اپنے پڑاؤ میں آ کر صبح کی نماز پڑھی۔ تو هَنْتَاهُ مَا أَرَانَا إِلَّا قَدْ غَلَّسْنَا قَالَتْ يَا میں نے ان سے کہا: اجی بی بی! میں سمجھتا ہوں کہ ابھی بُنَيَّ إِنَّ رَسُوْلَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ ہم تاریکی ہی میں ہیں۔ (یعنی صبح نہیں ہوئی) تو وَسَلَّمَ أَذِنَ لِلظُّعُنِ۔ انہوں نے کہا: اے میرے بیٹے ! رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے عورتوں کو اجازت دی ہے۔