صحیح بخاری (جلد سوم) — Page 356
صحيح البخاری جلد ۳ ۳۵۶ ٢٥ - كتاب الحج يُصَلِّي هَذِهِ السَّاعَةَ إِلَّا هَذِهِ الصَّلَاةَ پھر انہوں نے دو رکعت نماز عشاء پڑھی۔ جب صبح فِي هَذَا الْمَكَانِ مِنْ هَذَا الْيَوْمِ قَالَ نمودار ہوئی تو انہوں نے کہا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم عَبْدُ اللَّهِ هُمَا صَلَاتَانِ تُحَوَّلَانِ عَنْ اس وقت یہی نماز اس دن اس جگہ پڑھتے تھے۔ وَقْتِهِمَا صَلَاةُ الْمَغْرِبِ بَعْدَ مَا يَأْتِي حضرت عبداللہ بن مسعود ) نے کہا: یہ دو نماز میں ہیں النَّاسُ الْمُزْدَلِفَةَ وَالْفَجْرُ حِيْنَ يَبْزُغُ جو اپنے معمولی وقت سے ہے ، ہٹائی گئیں۔ مغرب کی نماز الْفَجْرُ قَالَ رَأَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ جبکہ لوگ مزدلفہ میں آئیں اور فجر کی نماز جبکہ فجر ہو رہی ہو۔ انہوں نے کہا: میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم وَسَلَّمَ يَفْعَلُهُ۔ اطرافه ١٦٨٢، ١٦٨٣ ۔ مختلف اقوال ہیں :- کو ایسا ہی کرتے دیکھا ہے۔ و فقہاء کے چھ تشریح پر دونوں ابواب ( نمبر ۹۷،۹۶) ایک اختلاف کی وجہ سے قائم قائم کئے گئے ۔ جس میں ائمہ و فقہاء (1) مزدلفہ میں مغرب و عشاء کی نمازیں بغیر اذ ان الگ الگ تکبیروں سے پڑھی جائیں۔ ( روایت نمبر ۱۶۷۲) (۲) صرف پہلی تکبیرا قامت سے دونوں نمازیں پڑھی جائیں۔ (۳) صرف پہلی نماز کے لیے اذان ۔ اور تکبیرا قامت ہر ایک کے لیے الگ الگ پڑھی جائے۔ یہ مذہب امام احمد بن حنبل کا ہے۔ (۴) ایک اذان اور ایک ہی تکبیر کے ساتھ دونوں نمازیں جمع کی جائیں۔ یہ مذہب امام ابو حنیفہ کا ہے۔ (۵) ہر ایک نماز کے لئے الگ الگ اذان اور تکبیریں ہوں۔ ( روایت نمبر ۱۶۷۵) یہ مذہب امام مالک کا ہے۔ ان میں سے کسی نماز کے لئے نہ اذان ہو اور نہ تکبیریں۔ (تفصیل کے لئے دیکھئے عمدۃ القاری جزء اصفحہ ۱۳) باب نمبر ۹۶، ۹۷ کے عناوین اسم موصول ”من“ سے قائم کر کے حضرت عبداللہ بن عمرؓ اور حضرت عبداللہ بن مسعود کے دو مختلف اقوال پیش کئے گئے ہیں۔ اس سے ظاہر ہے کہ امام بخاری کے نزدیک مسئلہ معنونہ کے متعلق وسعت ہے۔ موقع اور محل کے مطابق جس طرح بھی سہولت ہو؛ کیا جائے۔ هُمَا صَلَاتَانِ تُحَوَّلَانِ عَنْ وَقْتِهِمَا : حضرت عبداللہ بن مسعودؓ نے کہا: ان کے قول سے یہ مراد نہیں که مقررہ ررہ اوقاء اوقات میں تبدیلی ہوئی ہے۔ ہے ۔ بلکہ عام معمول وقت وقت - سے پہلے یا بعد میں نماز نماز پڑھنا پڑھنا مراد مراد ہے۔ ہے۔ بعض فقہاء نے ان کا عمل حجت قرار نہیں دیا۔ کیونکہ ان کی روایت مرفوع نہیں۔ بلکہ اس کے بالمقابل حضرت ابن عمر کے قول کو ترجیح دی گئی ہے۔ مزدلفہ میں نماز جمع کرنے کے متعلق فقہاء کے درمیان اختلاف ہوا ہے۔ اس کا ذکر پہلے گزر چکا ہے۔ یعنی یہ کہ قصر و سفر کی وجہ سے ہوگی یا مناسک حج سے اور یہ کہ ہے اور یہ کہ اہل مکہ کو پوری اور الگ الگ نمازیں پڑھنی چاہیں اور اگر یہ مناسک حج میں سے ہے تو پھر قصر و جمع کرنا ضروری ہے۔ امام شافعی نے دونوں طرح جواز کا فتوی دیا ہے اور ان کے نزدیک قصر و جمع افضل ہے۔ برخلاف امام مالک اور امام ابو حنیفہ کے۔ تفصیل کے لئے دیکھئے عمدۃ القاری جزء ۱ صفحہ ۱۱ ۱۲۔ جمع