صحیح بخاری (جلد سوم) — Page 355
صحيح البخاری جلد۳ ۳۵۵ ٢٥- كتاب الحج بْنُ سَعِيدٍ قَالَ أَخْبَرَنِي عَدِيُّ بْنُ ثَابِتٍ سے بیان کیا ، کہا: عدی بن ثابت نے مجھے خبر دی۔کہا: قَالَ حَدَّثَنِي عَبْدُ اللهِ بْنُ يَزِيدَ الْخَطْمِيُّ عبدالله بن یزید خطمی نے مجھ سے بیان کیا، کہا: قَالَ حَدَّثَنِي أَبُو أَيُّوبَ الْأَنْصَارِيُّ أَنَّ حضرت ابوایوب انصاری نے مجھے بتایا کہ رسول اللہ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صلی اللہ علیہ وسلم نے حجتہ الوداع میں مزدلفہ کے مقام جَمَعَ فِي حَجَّةِ الْوَدَاعِ الْمَغْرِبَ پر مغرب اور عشاء کی نمازیں جمع کیں۔وَالْعِشَاءَ بِالْمُزْدَلِفَةِ۔اطرافه: ٤٤١٤۔بَاب ۹۷ : مَنْ أَذَّنَ وَأَقَامَ لِكُلِّ وَاحِدَةٍ مِّنْهُمَا جس نے ان دونوں نمازوں میں سے ہر ایک کے لئے علیحدہ علیحدہ اذان دی اور تکبیرا قامت کہی ١٦٧٥: حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ خَالِدٍ :۱۶۷۵ عمرو بن خالد نے ہم سے بیان کیا کہ زھیر حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ حَدَّثَنَا أَبُو إِسْحَاقَ قَالَ نے ہمیں بتایا کہ ابو اسحق نے ہم سے بیان کیا، کہا: میں سَمِعْتُ عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ يَزِيدَ يَقُوْلُ نے عبد الرحمن بن یزید سے سنا۔وہ کہتے تھے: حضرت حَجَّ عَبْدُ اللَّهِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ فَأَتَيْنَا عبدالله بن مسعود) رضی اللہ عنہ نے حج کیا تو ہم الْمُزْدَلِفَةَ حِيْنَ الْأَذَانِ بِالْعَتَمَةِ أَوْ قَرِيْبًا مزدلفہ میں اس وقت پہنچے جب عشاء کی اذان ہوتی مِنْ ذَلِكَ فَأَمَرَ رَجُلًا فَأَذَّنَ وَأَقَامَ ثُمَّ ہے یا اس کے قریب قریب۔انہوں نے ایک شخص کو صَلَّى الْمَغْرِبَ وَصَلَّى بَعْدَهَا رَكْعَتَيْنِ حکم دیا تو اس نے اذان دی اور تکبیرا قامت کہی۔پھر ثُمَّ دَعَا بِعَشَائِهِ فَتَعَشَّى ثُمَّ أَمَرَ أُرَى مغرب کی نماز پڑھی۔پھر اس کے بعد دو رکعتیں رَجُلًا فَأَذَّنَ وَأَقَامَ قَالَ عَمْرُو وَلَا پڑھیں۔پھر انہوں نے رات کا کھانا منگوایا اور کھایا۔أَعْلَمُ الشَّكَ إِلَّا مِنْ زُهَيْرِ ثُمَّ صَلَّى میرا خیال ہے کہ انہوں نے ایک شخص کو حکم دیا تو اس الْعِشَاءَ رَكْعَتَيْن فَلَمَّا طَلَعَ الْفَجْرُ قَالَ نے اذان دی۔پھر تکبیر اقامت کہی۔عمرو بن خالد ) إِنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ لَا نے کہا کہ میں سمجھتا ہوں کہ شک زہیر سے ہوا ہے۔