صحیح بخاری (جلد سوم) — Page 354
صحيح البخاری جلد ۳ ۳۵۴ ٢٥ - كتاب الحج ذکر الہی میں گزاری جاتی ہے اور صبح کی نماز اول وقت پڑھ کر مشعر الحرام کی طرف کوچ ہوتا ہے جو مزدلفہ میں ایک پہاڑی کا نام ہے۔ جیسا کہ پہلے ذکر کیا جا چکا ہے۔ یہاں ہر جگہ قیام کیا جا سکتا ہے۔ وادی محسر کے سوا جس کے متعلق مشہور ہے کہ اصحاب الفیل بوقت حملہ خیمہ زن ہوئے تھے اور عذاب الہی سے تباہ ہو گئے تھے۔ جہاں کسی قوم پر عذاب نازل ہوا ہو وہاں آپ قیام کرنا نا پسند فرماتے تھے۔ لفظ مزدلفہ از دلاف سے مشتق ہے۔ بمعنی اکٹھا ہونا۔ عرب قدیم الایام سے اس جگہ ٹھہر نا ضروری سمجھتے تھے اور جیسا کہ بتایا جا چکا ہے کہ قریش خصوصاً خمس مزدلفہ سے آگے نہیں جاتے تھے۔ باقی قبائل اس مقام پر سورج کے طلوع ہونے کا انتظار کرتے اور یہ نعرہ لگاتے : اَشْرِقْ تَبِيرٌ لَعَلَّنَا نُغِيرُ ۔ شبیر پہاڑ چمک کہ تیری زیارت کے بعد ہم یہاں سے چلیں اور منی میں جا کر قربانی کریں۔ زمانہ جاہلیت میں حج کی عبادت ایک بیجاری کی قیادت میں ادا کی جاتی تھی اور وہ سورج نکلنے کا انتظار بے قراری سے کرتے اور بیجاری پجاری مشروق شمس سے متعلق مذکورہ بالا فقرہ دہراتا اور سورج کے شبیر کی بلند چوٹی پر چمکنے پر انہیں مٹی کی طرف لے جاتا۔ جہاں قربانی کرنے والے قربانی کرتے۔ اسلام نے مشروق شمس والی مشرکانہ رسم کو بند کر دیا۔ ثبیر مکہ کے پہاڑوں میں سے سب سے بلند پہاڑ ہے۔ اس تعلق میں دیکھئے باب ۰۰ اروایت نمبر ۱۶۸۴) باب ٩٦ : مَنْ جَمَعَ بَيْنَهُمَا وَلَمْ يَتَطَوَّعْ جس نے مزدلفہ میں دونوں نماز میں جمع کیں اور نفل نہ پڑھے ١٦٧٣ : حَدَّثَنَا آدَمُ حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي ۱۶۷۳ : آدم نے ہم سے بیان کیا کہ ابن ابی ذئب ذِنْبِ عَنِ الزُّهْرِيِّ عَنْ سَالِمِ بْنِ عَبْدِ نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے زہری سے، زہری نے سالم اللَّهِ عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا قَالَ بن عبد اللہ سے، سالم نے حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہا جَمَعَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَيْنَ سے روایت کی ۔ انہوں نے کہا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم الْمَغْرِبِ وَالْعِشَاءِ بِجَمْعِ كُلُّ وَاحِدَةٍ نے مزدلفہ میں مغرب و عشاء کی نمازیں جمع کر کے مِنْهُمَا بِإِقَامَةٍ وَلَمْ يُسَبِّحُ بَيْنَهُمَا وَلَا پڑھائیں ۔ ان 1- ان میں سے ہرا ہر ایک نماز الگ تکبیر کے ساتھ۔ نہ تو ان کے درمیان سنت و نفل پڑھے اور نہ عَلَى إِثْرِ كُلِّ وَاحِدَةٍ مِنْهُمَا ۔ آخر میں ۔ اطرافه: ۱۰۹۱، ۱۰۹۲، 1106، 1109، 1668، 1805، 3000۔ ١٦٧٤ : حَدَّثَنَا خَالِدُ بْنُ مَخْلَدٍ ۱۶۷۴: خالد بن مخلد نے ہم سے بیان کیا کہ حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ بِلَالٍ حَدَّثَنَا يَحْيَى سليمان بن بلال نے ہمیں بتایا۔ یحی بن سعید نے ہم