صحیح بخاری (جلد سوم)

Page 354 of 743

صحیح بخاری (جلد سوم) — Page 354

صحيح البخاری جلد۳ ۳۵۱۴ ٢٥-كتاب الحج ذکر الہی میں گذاری جاتی ہے اور صبح کی نماز اول وقت پڑھ کر مشعر الحرام کی طرف کوچ ہوتا ہے جو مزدلفہ میں ایک پہاڑی کا نام ہے۔جیسا کہ پہلے ذکر کیا جا چکا ہے۔یہاں ہر جگہ قیام کیا جاسکتا ہے۔وادی محسر کے سوا جس کے متعلق مشہور ہے کہ اصحاب الفیل بوقت حملہ خیمہ زن ہوئے تھے اور عذاب الہی سے تباہ ہو گئے تھے۔جہاں کسی قوم پر عذاب نازل ہوا ہو وہاں آپ قیام کرنا نا پسند فرماتے تھے۔لفظ مزدلفہ از دلاف سے مشتق ہے۔بمعنی اکٹھا ہونا۔عرب قدیم الایام سے اس جگہ ٹھہر نا ضروری سمجھتے تھے اور جیسا کہ بتایا جا چکا ہے کہ قریش خصوصا حمس مزدلفہ سے آگے نہیں جاتے تھے۔باقی قبائل اس مقام پر سورج کے طلوع ہونے کا انتظار کرتے اور یہ نعرہ لگاتے : اَشْرِقْ نَبِیرُ لَعَلَّنَا نُعِيرُ۔غیر پہاڑ چمک کہ تیری زیارت کے بعد ہم یہاں سے چلیں اور منیٰ میں جا کر قربانی کریں۔زمانہ جاہلیت میں حج کی عبادت ایک بیجاری کی قیادت میں ادا کی جاتی تھی اور وہ سورج نکلنے کا انتظار بے قراری سے کرتے اور پجاری مشروق شمس سے متعلق مذکورہ بالا فقرہ دُہراتا اور سورج کے شہر کی بلند چوٹی پر چپکنے پر انہیں مٹی کی طرف لے جاتا۔جہاں قربانی کرنے والے قربانی کرتے۔اسلام نے مشروق شمس والی مشر کا نہ رسم کو بند کر دیا۔ثبیر مکہ کے پہاڑوں میں سے سب سے بلند پہاڑ ہے۔(اس تعلق میں دیکھئے باب ۰۰ اروایت نمبر ۱۶۸۴) بَاب ٩٦ : مَنْ جَمَعَ بَيْنَهُمَا وَلَمْ يَتَطَوَّعْ جس نے مزدلفہ میں دونوں نمازیں جمع کیں اور نفل نہ پڑھے ١٦٧٣ : حَدَّثَنَا آدَمُ حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي ١٦٧٣: آدم نے ہم سے بیان کیا کہ ابن ابی ذئب ذِنْبِ عَنِ الزُّهْرِيَ عَنْ سَالِمِ بْنِ عَبْدِ نے ہمیں بتایا۔انہوں نے زہری سے، زہری نے سالم اللهِ عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا قَالَ بن عبد اللہ سے، سالم نے حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما جَمَعَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَيْنَ سے روایت کی۔انہوں نے کہا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم الْمَغْرِبِ وَالْعِشَاءِ بِجَمْعِ كُلُّ وَاحِدَةٍ نے مزدلفہ میں مغرب وعشاء کی نمازیں جمع کر کے مِنْهُمَا بِإِقَامَةٍ وَلَمْ يُسَبِّحُ بَيْنَهُمَا وَلَا پڑھائیں۔ان میں سے ہر ایک نماز الگ تکبیر کے ساتھ۔نہ تو ان کے درمیان سنت و نفل پڑھے اور نہ عَلَى إِثْرِ كُلَّ وَاحِدَةٍ مِنْهُمَا۔آخر میں۔اطرافه: ۱۰۹۱، ۱۰۹۲، ۱۱۰۶، ۱۱۰۹، ١٦٦۸، 1805، 3000۔١٦٧٤ : حَدَّثَنَا خَالِدُ بْنُ مَخْلَدٍ :۱۶۷۴ خالد بن مخلد نے ہم سے بیان کیا کہ حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ بِلَالٍ حَدَّثَنَا يَحْيَى سليمان بن بلال نے ہمیں بتایا۔یحی بن سعید نے ہم