صحیح بخاری (جلد سوم) — Page 352
صحيح البخاری جلد ۳ ۳۵۲ ٢٥-كتاب الحج باب ٩٤ أَمْرُ النَّبِي بِالسَّكِيْنَةِ عِنْدَ الْإِفَاضَةِ وَإِشَارَتُهُ إِلَيْهِمْ بِالسَّوْطِ عرفات سے لوٹتے وقت نبی ﷺ کا حکم دینا اور اپنے کوڑے سے ان کو اشارہ کرنا کہ اطمینان سے چلیں ١٦٧١ : حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ أَبِي مَرْيَمَ :١٦:١ سعيد بن ابی مریم نے ہم سے بیان کیا کہ حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ سُوَيْدٍ حَدَّثَنِي عَمْرُو ابراہیم بن سوید نے ہمیں بتایا۔عمرو بن ابی عمرو نے ابْنُ أَبِي عَمْرٍو مَوْلَى الْمُطَّلِبِ أَخْبَرَنِي مجھ سے بیان کیا جو مطلب کے آزاد کردہ غلام تھے کہ سَعِيْدُ بْنُ جُبَيْرٍ مَوْلَى وَالِبَةَ الْكُوفِيُّ سعيد بن جبیر نے جو والبہ کوفی کے آزاد کردہ غلام تھے حَدَّثَنِي ابْنُ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا أَنَّهُ مجھے خبر دی کہ حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما نے مجھ سے بیان کیا کہ وہ عرفہ کے دن نبی ا کے ساتھ دَفَعَ مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ (عرفات سے) لوٹے تو نبی ﷺ نے اپنے پیچھے عَرَفَةَ فَسَمِعَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّ سخت ڈانٹ ڈپٹ ، اونٹوں کو مارنے اور آوازوں کا وَرَاءَهُ زَجْرًا شَدِيدًا وَضَرْبًا وَصَوْتًا شور سنا تو آپ نے ان کو اپنے کوڑے سے اشارہ کیا لِلْإِبِل فَأَشَارَ بِسَوْطِهِ إِلَيْهِمْ وَقَالَ أَيُّهَا اور فرمایا: اے لوگو! آہستگی سے چلو۔کیونکہ نیکی دوڑ النَّاسُ عَلَيْكُمْ بِالسَّكِيْنَةِ فَإِنَّ الْبِرَّ دھوپ سے نہیں حاصل ہوتی۔سورہ تو بہ میں اَو ضَعُوا لَيْسَ بِالْإِيْضَاعِ أَوْضَعُوا أَسْرَعُوا آیا ہے، اس کے معنی ہیں کہ تمہارے درمیان ریشہ خِللَكُم (التوبة: ٤٧) مِنَ التَّخَلُّل دوانیاں کریں۔خِلَالَكُمْ کا لفظ تَخَلَّل سے مشتق بَيْنَكُمْ، وَفَجَّرْنَا خِلْلَهُمَا الكهف : ٣٤) ہے۔جس کے معنی ہیں۔وہ تمہارے اندر خلل پیدا کریں اور سورہ کہف میں جو فَجَّرُنَا خِلَالَهُمَا آیا بَيْنَهُمَا۔ل الله ع ہے، اس کے معنی ہیں کہ ان کے درمیان نہر چلائی۔تشریح : أمرُ النَّبِيِّ ﷺ بِالسَّكِينَةِ وَإِشَارَتُهُ إِلَيْهِمْ بِالسَّوْطِ : بعض شارمین کا خیال ہے کہ روایت نمبر ۷ ۱۶ کے آخر میں لفظ خلال کی جو لغوی تشریح کی گئی ہے وہ لفظ اَوْ ضَعُوا کے تعلق میں ہے۔(فتح الباری جزء ۳۰ صفحه ۲۶۰) (عمدۃ القاری جزء ۱ صفحہ ۱۰) مگر جیسا کہ پہلے بتایا جا چکا ہے کہ امام موصوف بلا وجہ لغوی بحث نہیں کرتے بلکہ موقع کی مناسبت سے اس قسم کی تشریح کرتے ہیں۔یہاں بھی درحقیقت یہ بتلانا مقصود ہے کہ کسی